” مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی “۔ اس لئے اگر کوئی حقیقی طور پر بلند مرتبہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس عظیم اور سچی تفاوت و امتیاز کے لئے جدوجہد کرے جو آخرت میں ہوگی ، جس کا میدان وسیع اور جہاں کسی جگہ کوئی تنگی اور کمی نہیں ہے۔ اور وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدود سے صرف اللہ ہی خبردار ہے اور جو لوگ مقام امتیاز میں باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقام آخرت کے لئے مقابلہ کریں۔ دنیائے دنی کے حقیر اور قلیل ساز و سامان کے لئے کیا بھاگنا !
آیت 21 اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب ذہنی و جسمانی صلاحیتوں شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًادنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں محدود ہی ہوں گے مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع ہوجائے گا ؟ آخرکار تو دونوں کو یہاں سے جانا ہے۔ لیکن آخرت کے آرام و آسائش ابدی ہوں گے۔ وہاں کے نعمتوں کے باغات کی اپنی ہی شان ہوگی : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ ”تو اس کے لیے آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔“