سورۃ الاسراء: آیت 26 - وآت ذا القربى حقه والمسكين... - اردو

آیت 26 کی تفسیر, سورۃ الاسراء

وَءَاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

اردو ترجمہ

رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waati tha alqurba haqqahu waalmiskeena waibna alssabeeli wala tubaththir tabtheeran

آیت 26 کی تفسیر

اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔

اس کے بعد قرآن کریم تبذیر کی ممانعت کرتا ہے۔ تبذیر کیا ہے ؟ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ اس کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ایسی مد میں خرچ کرنا جس میں خرچ کرنے کا حق نہ ہو ، تبذیر ہے۔ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اگر سچائی کی راہ پر کوئی انسان اپنا پورا مال خرچ کر دے تو وہ تبذیر تر ہوگا اور اگر کوئی دو کلو بھی بغیر حق کے خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے۔

لہذا تبذیر کا تعلق انفاق کی مقدار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس مد سے ہے جس میں خرچ کیا جاتا ہے۔ مبذرین کو شیطان کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ باطل اور شر اور معصیت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ وہرب کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اور شیطان کے بھائی بھی اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ ان کو اپن جگہ خرچ کیا جائے۔

اگر کسی کے پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ رشتہ داروں ، مساکین ، مسافروں کا حق ادا کرے اور وہ ان کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ اللہ اسے بھی رزق وافر دے اور ان کو بھی رزق وافر دے۔ اور ان حقداروں کے ساتھ وعدہ کرلے کہ جب حالات درست ہوں گے اور وہ کچھ کرنے کے قابل ہوا تو کرے گا وہ وعدہ کرے اور اچھی نرم بات ان کے ساتھ کرے۔ دل تنگی اور تھڑ دلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور خاموشی بھی اختیار نہ کرے۔ مبادا کہ وہ دل میں تنگی محسوس کریں اور اس کی خاموشی کو دوسری معنی پہنائیں۔ کیونکہ اچھی طرح بات کرنے سے اور نرمی سے سمجھانے کے نتیجے میں ان کو تسلی ہوگی۔

پچھلی آیت میں چونکہ تبذیر اور فضول خرچی کی ممانعت کی گئی۔ اس کی مناسبت سے یہاں خرچ میں میانہ روی کا حکم دے دیا گیا۔

آیت 26 وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًاتبذیر کے معنی بلاضرورت مال اڑانے کے ہیں اور یہ اسراف سے بڑا جرم ہے۔ اسراف تو یہ ہے کہ کسی ضرورت میں ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت دو روٹیوں اور تھوڑے سے سالن سے بخوبی پوری ہوجاتی ہے مگر اسی ضرورت کے لیے اگر کئی کئی کھانوں پر مشتمل دستر خوان سجا دیے جائیں تو یہ اسراف ہے۔ اسی طرح کپڑا انسان کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک دو جوڑے کافی ہیں۔ اب اگر الماریوں کی الماریاں طرح طرح کے جوڑوں سوٹوں اور پوشاکوں سے بھری پڑی رہیں تو یہ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔ اسراف کے مقابلے میں تبذیر سے مراد ایسے بےتحاشا اخراجات ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو مثلاً شادی بیاہ کی رسموں پر بےحساب خرچ کرنا اور نام و نمود کے لیے طرح طرح کے مواقع پیدا کر کے ان پر مال و دولت کو ضائع کرنا تبذیر ہے۔

ماں باپ سے حسن سلوک کی تاکید ماں باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو، اور حدیث میں ہے جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔ بزاز میں ہے اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک حضور ﷺ کے قبضے میں نہ تھا۔ r007ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورة برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع فرماتا ہے۔ نہ تو انسان کو بخیل ہونا چأہیے نہ مسرف بلکہ درمیانہ درجہ رکھے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَـقْتُرُوْا وَكَانَ بَيْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا 67؀) 25۔ الفرقان :67) یعنی ایماندار اپنے خرچ میں نہ تو حد سے گزرتے ہیں نہ بالکل ہاتھ روک لیتے ہیں۔ پھر اسراف کی برائی بیان فرماتا ہے کہ ایسے لوگ شیطان جیسے ہیں۔ تبذیر کہتے ہیں غیر حق میں خرچ کرنے کو۔ اپنا کل مال بھی اگر راہ للہ دے دے تو یہ تبدیر و اسراف نہیں اور غیر حق میں تھوڑا سا بھی دے تو مبذر ہے بنو تمیم کے ایک شخص نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں مالدار آدمی ہوں اور اہل و عیال کنبے قبیلے والا ہوں تو مجھے بتائیے کہ میں کیا روش اختیار کروں ؟ آپ نے فرمایا اپنے مال کی زکوٰۃ الگ کر، اس سے تو پاک صاف ہوجائے گا۔ اپنے رشتے داروں سے سلوک کر سائل کا حق پہنچاتا رہ اور پڑوسی اور مسکین کا بھی۔ اس نے کہا حضور ﷺ اور تھوڑے الفاظ میں پوری بات سمجھا دیجئے۔ آپ نے فرمایا قرابت داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کر اور بےجا خرچ نہ کر۔ اس نے کہا حسبی اللہ اچھا حضور ﷺ جب میں آپ کے قاصد کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو اللہ و رسول کے نزدیک میں بری ہوگیا ؟ آپ نے فرمایا ہاں جب تو نے میرے قاصد کو دے دیا تو تو بری ہوگیا اور تیرے لئے جو اجر ثابت ہوگیا۔ اب جو اسے بدل ڈالے اس کا گناہ اس کے ذمے ہے۔ یہاں فرمان ہے کہ اسراف اور بیوقوفی اور اللہ کی اطاعت کے ترک اور نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے مسرف لوگ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں۔ شیطان میں یہی بد خصلت ہے کہ وہ رب کی نعمتوں کا شکر اس کی اطاعت کا تارک اسی کی نافرمانی اور مخالفت کا عامل ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان قرابت داروں، مسکینوں، مسافروں میں سے کوئی کبھی تجھ سے کچھ سوال کر بیٹھے اور اس وقت تیرے ہاتھ تلے کچھ نہ ہو اور اس وجہ سے تجھے ان سے منہ پھیرلینا پڑے تو بھی جواب نرم دے کہ بھائی جب اللہ ہمیں دے گا انشاء اللہ ہم آپ کا حق نہ بھولیں گے وغیرہ۔

آیت 26 - سورۃ الاسراء: (وآت ذا القربى حقه والمسكين وابن السبيل ولا تبذر تبذيرا...) - اردو