حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل اولاد خود بخود موقوف ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ زندگی پر عملاً اثر انداز ہوتا ہے۔ نظریہ محض خلا میں نہیں ہوتا یا محض کسی شخص کے دماغ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کہ وہ عمل کی دنیا تک اترتا ہے۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے انداز تعبیر کی ایک نہایت ہی گہری مثال پر قدرے غور کریں۔ یہ عجیب لطیف مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کو آباء کے رزق پر مقدم رکھا۔
نحن نرقھم وایاکم (71 : 13) ” ہم تمہاری اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔
نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔
نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی “۔ کیونکہ دونوں آیات کے مفہوم میں ایک دوسرا اختلاف ہے۔ پوری آیات یوں ہیں :
ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم (71 : 13) اور انعام میں یوں تھی :
ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم ویاھم (6 : 151) یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو اس لئے قتل نہ کرو کہ تم غریب ہوجائو گے۔
خشیۃ املاق (71 : 13) اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اولاد کا رزق ہم پر ہے۔ اور انعام یہ تھا من املاق یعنی فقر اور تنگی رزق پہلے سے موجود تھے ، اس لئے والدین کے رزق کو پہلے لایا گیا۔ یہ ایک لطیف فرق ہے اور اسی وجہ سے تقدیم و تاخیر کا یہ عمل ہوا۔
قتل اولاد کی ممانعت کی نسبت ہی سے ممانعت زنا کا حکم آتا ہے۔
آیت 31 وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے رازق ہونے پر ایمان و یقین نہیں اور وہ خود اپنی جمع تفریق سے حساب پورا کرنے کی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔ دراصل انسان اللہ کے خزانوں اور وسائل کی وسعتوں کا کچھ اندازہ نہیں کرسکتا اور اسے اپنی اس کوتاہی اور معذوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ سمندر کے اندر انسانی غذا کے کس قدر وسیع خزانے پوشیدہ ہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمندری گوشت لَحْمًا طَرِیًّا النحل : 14 اور فاطر : 12 کی افادیت انسانی صحت کے لیے red meat کے مقابلے میں کس قدر زیادہ ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ جاننے کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر ”قتل اولاد“ کے حکم کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن باقاعدہ حمل ٹھہر جانے کے بعد اسے ضائع کرنا بہر حال قتل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ تمہاری اپنی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں تمہارے حقیقی رازق ہم ہیں اور جیسے ہم تمہیں رزق دے رہے ہیں اسی طرح تمہاری اولاد کے رزق کا بندوبست بھی ہمارے ذمہ ہے۔
قتل اولاد کی مذمت دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا۔ قرآن اس نافرجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے ؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا آیت (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا 31) 17۔ الإسراء :31) فقیری اور تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کی جان نہ لیا کرو۔ تمہیں اور انہیں روزیاں دینے والے ہم ہیں۔ ان کا قتل جرم عظیم اور گناہ کبیرہ ہے۔ خطا کی دوسری قرأت خطا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرائے حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے کہا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زنا کاری کرے۔