سورۃ الاسراء: آیت 32 - ولا تقربوا الزنا ۖ إنه... - اردو

آیت 32 کی تفسیر, سورۃ الاسراء

وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلًا

اردو ترجمہ

زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala taqraboo alzzina innahu kana fahishatan wasaa sabeelan

آیت 32 کی تفسیر

اس لئے کہ قتل اولاد اور زنا کے درمیان تعلق موجود ہے ، نیز اس کے بعد قتل نفس کا مضمون آتا ہے۔ قتل اولاد ، زنا اور قتل نفس کے درمیان مخصوص تعلق موجود ہے۔ قتل اولاد توبعینہ قتل نفس ہے ، لیکن زنا بھی مختلف پہلوئوں سے دراصل قتل نفس ہی ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے زانی حیات کو بےمحل گرانا ہے ، اگر زنا کے نتیجے میں کوئی اولاد پیدا ہوجائے تو اس سے فرار حاصل کیا جاتا ہے۔ پہلے جنہیں ہی کو قتل کردیا جاتا ہے ، ورنہ بچہ پیدا ہونے کے بعد بالعموم قتل کردیا جاتا ہے۔ پیدائش سے پہلے یا بعد وہ اگر زندہ رہ بھی جائے تو یا وہ مادر پدر آزاد ہوتا ہے یا پھر معاشرے میں ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔ بہرحال اگر قتل نہ ہو اور زندہ بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی طرح وہ ایک کم تر درجے کی زندگی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک گو نہ وہ بھی قتل ہے۔ پھر زنا دراصل پوری سوسائٹی کے لئے قتل کا سبب ہے۔ کیونکہ اس میں نسب مل جاتے ہیں اور خون خالص نہیں رہتے اور بچوں کے بارے میں یقینی صورت نہیں رہتی۔ یہ دراصل ایک سو سائٹی کی موت ہوتی ہے۔

ایک طرح زنا قتل کے برابر اس طرح بھی ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوتا ہے اس میں ازدواجی زندگی کی ضرورت نہیں رہتی۔ یوں بھی سوسائٹی سے خاندانی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حالانکہ خاندان ایک بچے کے لئے بہترین جائے پرورش ہوتا ہے۔ خاندان کے بغیر کسی بچے کی فطرت سلیمہ اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔ اور اس کی تربیت میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور رہ جاتا ہے۔

پھر تاریخ گواہ ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوا ہے ، وہ تباہی و بربادی اور زوال کی طرف سفر شروع کردیتی ہے۔ تاریخ قدیم اور عصر جدید دونوں کا عمرانی مطالعہ یہی نتیجہ دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ میں زنا عام ہے حالانکہ وہ اس وقت مادی ترقی کے قائدین ہیں لیکن ان میں سے فرانس جیسی قوم کے زوال کے آثار تو ابھی سے نمودار ہوچکے ہیں جس طرح ایک فرد جوانی کے ایام میں تروتازہ رہتا ہے اور اس کی اخلاقی بےراوہ روی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور بڑھاپے میں پھر وہ یکدم گر جاتا ہے اسی طرح اخلاقی بےراہ روی میں مبتلا اقوام یکدم زوال کا شکار نہیں ہوجایا کرتیں ، جب ان پر زوال آتا ہے تو یکدم گرجاتی ہیں۔

اسلام زنا کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے ، یعنی مقدمات زنا کے حالات سے ہی دور رہنے کا حکم دیتا ہے یہ زنا کی ممانعت کی سخت تاکید ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسے حالات سے نہیں بچتا جن کے نتیجے میں زنا واقع ہوجاتا ہے تو بھی اپنے ۔۔ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

یہی وجہ ہے اسلام سد باب ذریعہ پر عمل کرتا ہے تاکہ اس فحاشی میں مبتلا ہونے کا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔ اسلام غیر ضروری اختلاط مرد و زن کی ممانعت کرتا ہے ، غیر مرد اور عورت کی ایک جگہ تنہائی کی ممانعت کرتا ہے ، اسلام نوجوانوں کی شادی کی تلقین کرتا ہے۔ ایسی باتوں کو روکتا ہے جن کے نتیجے میں شادی ممنوع ہوجائے مثلاً جہیز اور زیادہ مر۔ اور اس خوف کا بھی قلع قمع کرتا ہے کہ شادی کی وجہ سے تنگ دستی نہ آجائے اور جو لوگ شادی کی تلاش میں ہوں ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ پاک دامنی کی راہ اختیار کریں اور پھر بھی اگر کوئی اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسلام اسے سخت سزا دیتا ہے نیز زنا کے الزام کو بھی قابل حد جرم قرار دیتا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام ذرائع و اسباب اختیار کرتا ہے کہ سوسائٹی زنا کے ارتکاب سے بچ جائے۔ اور اس طرح وہ تباہی اور ہلاکت سے بچ جائے۔ چناچہ قتل اولاد اور زنا کی ممانعت کے ساتھ ہی حکم آتا ہے ناحق کسی زندہ انسان کی جان لینا بھی اسلام میں ایک عظیم جرم ہے۔

آیت 32 وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓىیہاں ”زنا مت کرو“ کے بجائے وہ حکم دیا جا رہا ہے جس میں انتہائی احتیاط کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی ہر اس معاملے سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھو جو تمہیں زنا تک لے جانے یا پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔

کبیرہ گناہوں سے ممانعت زنا کاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زنا کاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لئے پسند کرتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا ؟ آپ نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند کرتا ہے ؟ اس نے اسی طرح تاکید سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک اسی طرح کوئی بھی اسے اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتا اچھا اپنی بہن کے لئے اسے تو پسند کرے گا ؟ اس نے اسی طرح سے انکار کیا آپنے فرمایا اسی طرح دوسرے بھی اپنی بہنوں کے لئے اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ بتا کیا تو چاہے گا کہ کوئی تیری پھوپھی سے ایسا کرے ؟ اس نے اسی سختی سے انکار کیا۔ آپ نے فرمایا اسی طرح اور سب لوگ بھی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر دعا کی کہ الہٰی اس کے گناہ بخش، اس کے دل کو پاک کر، اسے عصمت والا بنا۔ پھر تو یہ حالت تھی کہ یہ نوجوان کسی کی طرف نظر بھی نہ اٹھاتا۔ ابن ابی الدنیا میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے شرک کے بعد کوئی گناہ زنا کاری سے بڑھ کر نہیں کہ آدمی اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں ڈالے جو اس کے لئے حلال نہیں۔

آیت 32 - سورۃ الاسراء: (ولا تقربوا الزنا ۖ إنه كان فاحشة وساء سبيلا...) - اردو