انسان جب صاحب مال و جمال بن جاتا ہے اور اسے دنیا میں قوت اور سلطنت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ اپنے دل و دماغ سے خدا کا تصور نکال دیتا ہے ، جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک ہے ، تو اس نظریاتی بےراہ راوی کی وجہ سے وہ کبرو غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس بات کو سمجھ لے کر اس کے پاس جو قوت اور مال ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی قوت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تو اس کے دل و دماغ پر کبرو غرور کا غبار کبھی نہ چھائے۔ اور وہ اکڑ کر نہ چلے اور زمین کے اوپر نہایت ہی شریفانہ چال چلے۔ اس میں کوئی اکٹر نہ ہو۔
قرآن کریم اس قسم کے متکبر ، مغرور انسان کے سامنے اس کی کمزوریاں رکھتا ہے کہ دیکھو۔
انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الحبال طولا (71 : 73) ” تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو “۔ انسان جسمانی اعتبار سے بہت ہی نحیف و نزار ہے۔ جسمانی اعتبار سے یہ اللہ کی دوسری مخلوقات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انسان کے اندر جو قوت ہے وہ خدائی قوت ہے ، اس کو غلبہ صرف اللہ کے دین کے وجہ سے حاصل ہے ، اور یہ جو اس کائنات میں معزز ہے تو اس لئے کہ اللہ نے اپنی روح پھونک کر اسے معزز بنایا ہے۔
یہ عاجزی اور یہ تواضع جس کی طرف قرآن بلاتا ہے تکبر غرور اور خیالاتی برتری کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ یوں انسان درگاہ باری تعالیٰ میں بھی باادب رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ بھی شریفانہ ہوتا ہے اور خیالات و تصورات میں سنجیدہ اور سوشل لائف میں متوازن ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بعد ، اگر کوئی غرور وتکبر کرتا ہے تو وہ کم عقل ، بیوقوف اور گھٹیا انسان ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو اللہ پسند نہیں کرتا ، کیونکہ وہ غرور میں مبتلا ہے اور عوام الناس بھی ایسے شخص کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو یوں بڑا سمجھتا ہے اور بےجا پھولا ہوا ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے : من تواضحع اللہ رفعہ فھو فی نفسہ حقیر وعند الناس کبیر ، ومن استکبر وضعہ اللہ فھو فی نفسہ کبیر وعند الناس حقیر۔ ھتی لھوا بغض الیھم من الکلب والخنزیر ” جو شخص تواضع کرے محض رضائے الٰہی کے لئے ، تو اسے اللہ اٹھائے گا ، وہ تو اپنے خیال میں حقیر ہوگا لیکن لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوگا ، جو تکبر کرے ، اللہ اسے گرا دیتا ہے ، وہ تو اپنے خیال میں بڑا آدمی ہوتا ہے ، مگر لوگوں کے نزدیک حقیر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اس سے اس قدر نفرت کرنے لگتے ہیں جس طرح کتے اور خنزیر سے “ ( ابن کثیر) ۔
اب یہ بحث یہاں ایک اصول بات پر ختم ہوتی ہے ، جس قدر امور سے اس فہرست میں مطلع کیا گیا ہے وہ افعال مذمومہ ہیں ، اب عموماً کہا جاتا ہے کہ اللہ تمام برے اعمال اور افعال اور صفات کو پسند نہیں کرتا۔
آیت 37 وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاتم جس قدر چاہو طاقتور ہوجاؤ اور ہماری زمین پر جتنا بھی اکڑ اکڑ کر اور پاؤں مار مار کر چل لو تم اپنی طاقت سے زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور جس قدر چاہو گردن اکڑا لو اور طرہ و دستار سے سربلند کرلو تم قد میں ہمارے پہاڑوں کے برابر تو نہیں ہوسکتے۔
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے پھر اسے نیچا دکھانے کے لئے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑی کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جا رہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جا رہا ہے۔ قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کردیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی اور عاجزی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلند کرتا ہے وہ اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہے اور لوگ اسے جلیل القدر سمجھتے ہیں اور تکبر کرنے والا اپنے تئیں بڑا آدمی سمجھتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں وہ ذلیل و خوار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے کتوں اور سوروں سے بھی زیادہ حقیر جانتے ہیں۔ امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ اپنی کتاب المحمول والتواضع میں لائے ہیں کہ ابن الاہیم دربار منصور میں جا رہا تھے ریشمی جبہ پہنے ہوئے تھا اور پنڈلیوں کے اوپر سے اسے دوہرا سلوایا تھا کہ نیچے سے قبا بھی دکھائی دیتی رہے اور اکڑتا اینڈتا جا رہا تھا۔ حضرت حسن ؒ نے اسے اس حالت میں دیکھ کر فرمایا افوہ نک چڑھا، بل کھایا، رخساروں پھولا، اپنے ڈنڑ بازو دیکھتا، اپنے تئیں تولتا، مستوں کے ذکر و شکر کو بھولا، رب کے احکام کو چھوڑے ہوئے، اللہ کے حق کو توڑا، دیوانوں کی چال چلتا، عضو عضو میں کسی کی دی ہوئی نعمت رکھتا، شیطان کی لعنت کا مارا ہوا دیکھو جا رہا ہے۔ الاہیم نے سن لیا اور اسی وقت لوٹ آیا اور عذر بہانہ کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا مجھ سے کیا معذرت کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اسے ترک کر۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا آیت (وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا 37) 17۔ الإسراء :37)۔ عابد بختری ؒ نے آل علی میں سے ایک شخص کو اکڑتے ہوئے چلتا دیکھ کر فرمایا اے شخص جس نے تجھے یہ اکرام دیا ہے اس کی روش ایسی نہ تھی۔ اس نے اسی وقت توبہ کرلی۔ ابن عمر ؓ نے ایک ایسے شخص کو دیکھ کر فرمایا کہ شیطان کے یہی بھائی ہوتے ہیں۔ حضرت خالد بن معدان ؒ فرماتے ہیں لوگو اکڑ اکڑ کر چلنا چھوڑو اس لئے کہ انسان۔ (اصل عربی میں کچھ عبارت غائب ہے) اس کا ہاتھ اس کے باقی جسم سے (ابن ابی الدنیا) ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ جب میری امت غرور اور تکبر کی چال چلنے لگے گی اور فارسیوں اور رومیوں کو اپنی خدمت میں لگائے گی تو اللہ تعالیٰ ایک کو ایک پر مسلط کر دے گا۔ سیئہ کی دوسری قرأت سیئتہ ہے تو معنی یہ ہوئے کہ جن جن کاموں سے ہم نے تمہیں روکا ہے یہ سب کام نہایت برے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ہیں۔ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو سے لے کر اکڑ کر نہ چلو تک کے تمام کام۔ اور سیئہ کی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ آیت (وقضی ربک) سے یہاں تک جو حکم احکام اور جو ممانعت اور روک بیان ہوئی اس میں جن برے کاموں کا ذکر ہے وہ سب اللہ کے نزدیک مکروہ کام ہیں۔ امام ابن جریر ؒ نے یہی توجیہ بیان فرمائی ہے۔