سورۃ الاسراء: آیت 38 - كل ذلك كان سيئه عند... - اردو

آیت 38 کی تفسیر, سورۃ الاسراء

كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُۥ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا

اردو ترجمہ

اِن امور میں سے ہر ایک کا برا پہلو تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kullu thalika kana sayyiohu AAinda rabbika makroohan

آیت 38 کی تفسیر

یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔

یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔

آیت 38 كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًایعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر Dos بھی ہیں اور نواہی Donts بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔

آیت 38 - سورۃ الاسراء: (كل ذلك كان سيئه عند ربك مكروها...) - اردو