یہاں بتایا جاتا ہے کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب کیا ہوتا ہے۔ چناچہ قصہ آدم و ابلیس کا یہ منظر یہاں پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ وہ لوگ جو گمراہی کے اصل اسباب معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ اسباب کیا ہیں اور یہ کہ شیطان ان کا بنیادی دشمن ہے۔ یہ ان کے جد امجد کا بھی دشمن تھا ، یوں انسانوں کے ابو الاباء کا رشتہ بتا کر انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ شیطان ان کا جدی دشمن ہے۔
واذ قلنا للملئکۃ اسجدو……(71 : 16) ” اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” میں اس جو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے “۔ یہ کبر کی وجہ سے شیطان کے حسد کا ظہور ہے کہ وہ مٹی کو تو دیکھتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس مٹی میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ہوئی ہے۔ یہاں ابلیس بنی آدم کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مٹی سے تخلیق کردہ یہ مخلوق بڑی آسانی سے گمراہ کی جاسکتی ہے۔ وہ بڑے غرور سے کہتا ہے :
قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاحضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔
ابلیس کی قدیمی دشمنی ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو اگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باپ حضرت آدم ؑ کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کردیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے میرے پھندے سے چھوٹ جائیں گے باقی سب کو غارت کر دوں گا۔