ومن الیل فتحجد بہ نافلۃ لک (71 : 97) ” اور رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے “۔ تہجد سے مراد پچھلی رات کی وہ نماز ہے جو رات کے اول حصے میں سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جاتی ہے اور بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو کیونکہ قرآن مجید نماز کی روح ہے اور نماز کی بنیادی عنصر ہے۔
عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (71 : 97) ” بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے “۔ یعنی نماز کی پابندی ، قرآن فجر کی تلاوت اور تہجد گزاری اور اللہ کے ساتھ اس پختہ اور دائمی تعلق کی وجہ سے۔ کیونکہ مقام محمود تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ جب مقام محمود تک پہنچنے کے لئے اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ اور برگزیدہ رسول کا حکم دیتا ہے کہ وہ نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت کریں اور تہجد پر عمل پیرا رہیں تو دوسری لوگ ان عبادات کے زیادہ محتاج ہیں اور وہ اپنے لئے مقرر مراتب تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں جب وہ ان عبادات پر اچھی طرح عمل پیرا ہوں۔ یہی صحیح راستہ اور یہی تحریک اسلامی کے کارکنوں کا زاد راہ ہے۔
آیت 79 وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ یہاں لفظ ”بِہٖ“ میں وہی انداز ہے جس کی تکرار اس سے پہلے ہم سورة الانعام میں دیکھ چکے ہیں۔ اَنْذِر بِہٖ ‘ ذَکِّر بِہٖ یعنی انذار تذکیر تبشیر تبلیغ سب قرآن کے ذریعے سے ہو۔ چناچہ یہاں پر رسول اللہ کو تہجد کا حکم دیا گیا تو فرمایا گیا کہ رات کا ایک حصہ آپ قرآن کے ساتھ جاگیے۔ تہجد کی نماز آپ قرآن کے ساتھ پڑھیں۔ گویا تہجد کا مقصد اور اس کی اصل روح یہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے۔ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ رکعتوں کی مخصوص تعداد پوری کرلینے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا”مقام محمود“ بہت ہی اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جس پر آنحضور کو میدان حشر میں اور جنت میں فائز کیا جائے گا۔ ہم اس مقام کی عظمت اور کیفیت کا اندازہ اپنے تصور سے نہیں کرسکتے۔