اگر اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ زمین میں فرشتے بسیں تو وہ آدمیوں کی شکل و صورت میں ہوتے کیونکہ آدمی کی شکل و صورت ایسی ہے جو اس کرہ ارض پر سکونت کے لئے مناسب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ کہا گیا ہے۔
ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا (6 : 9) ” اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو بھی وہ ایک آدمی ہی ہوتا “۔ اور اللہ تو سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ نے اس کرہ ارض کے لئے نوامیس قدرت بنائے ہیں اور ان نوامیس قدرت کے مطابق انسان کی تخلیق کی ہے۔ اسی طرح دوسری مخلوقات کو بھی ان کے مطابق بنایا ہے۔ اور یہ طے کیا ہے کہ یہ قوانین قدرت جاری وساری رہیں گے اور یہ کائنات ان کے مطابق چلتی رہے گی تاکہ اس کی حکمت خلق وتکوین پوری ہو لیکن افسوس ہے کہ لوگ اللہ کی حکمت تخلیق کائنات اور انسان کو نہیں سمجھتے۔
چونکہ اللہ کی حکمت یہ ہے ، تو اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جدل وجدال نہ کریں۔ اور تمام امور کو اللہ کے حوالے کردیں۔ وہ دیکھ رہا ہے ان لوگوں کے معاملات میں تصرف چھوڑ دیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اور ان کے اعمال سے بھی خبردار ہے۔
آیت 95 قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًارسول کا کام ہے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانا اس کی ایک ایک بات کو سمجھانا اور پھر اللہ کے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنی زندگی کو ان کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنا۔ اب ظاہر ہے انسانوں کے لیے نمونہ تو ایک انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتہ تو ان کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا۔ چناچہ اگر ان کے پاس ایک فرشتہ رسول بن کر آجاتا تو یہی لوگ کہتے کہ یہ تو فرشتہ ہے اس کی کوئی خواہش ہے نہ ضرورت نہ رشتہ ہے نہ ناتا نہ جذبات ہیں نہ احساسات ہماری اس سے کیا نسبت ؟ ہماری تو گھر گرہستی ہے اہل و عیال ہیں مجبوریاں ہیں ضرورتیں ہیں طرح طرح کے جنجال ہیں ہم اس کی سیرت اور اس کے کردار کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں ؟ البتہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے اور ان کی طرف رسول بھیجنا ہوتا تو ضرور کسی فرشتے ہی کو اس کام پر مامور کیا جاتا مگر اب معاملہ چونکہ انسانوں کا ہے لہٰذا ان پر حجت قائم کرنے کے لیے لازماً کسی انسان ہی کو بطور رسول بھیجا جانا چاہیے تھا سو ایسا ہی ہوا۔