سورہ جاثیہ: آیت 14 - قل للذين آمنوا يغفروا للذين... - اردو

آیت 14 کی تفسیر, سورہ جاثیہ

قُل لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَغْفِرُوا۟ لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ ٱللَّهِ لِيَجْزِىَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے، اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul lillatheena amanoo yaghfiroo lillatheena la yarjoona ayyama Allahi liyajziya qawman bima kanoo yaksiboona

آیت 14 کی تفسیر

آیت نمبر 14 تا 15

اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر قسم کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ اہل ایمان چونکہ ایمان کے خزانے تک رسائی حاصل کرچکے ہیں اور اس کے ذریعہ ان کو مادی اور روحانی اطمینان حاصل ہے اور وہ ایک برتر پوزیشن ہیں اس لیے ان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ عفو و درگزر سے کام لیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس درگزر کے نتیجے میں اہل ایمان کا رویہ ہوگا کہ وہ تمام معاملات اللہ کے حوالے کردیں گے جو محسن کو اس کے احسان کی جزاء دے گا اور بدکار کو اس کی بدکاریوں پر سزا دے گا۔ عفو و درگزر کی بجائے اگر اہل ایمان ان بیچاروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو وہ اس نیکی سے محروم ہوجائیں گے بشرطیکہ اس عفو و درگزر کی پالیسی کے نتیجے میں امن وامان کو خطرہ لاحق نہیں ہوتا ، اور لوگ حدود اللہ پر دست درازی میں جری نہیں ہوجاتے ہوں۔

لیجزی قوما بما کانوا یکسبون (45 : 14) “ تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ”، اور اس کے بعد یہ بھی تصریح کردی جاتی ہے کہ جزاء و سزا میں ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اللہ کے سامنے حاضری دینے کے وقت کی فکر کرنی چاہئے۔

من عمل صالحا ۔۔۔۔۔۔۔ ترجعون (45 : 15) “ جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھرجانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے ”۔ یوں ایک مومن کا سینہ فراخ ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بلند ہوتی ہے۔ وہ انفرادی مشکلات بھی برداشت کرتا ہے اور احمقوں کی حماقتیں بھی برداشت کرتا ہے اور اندھے اور محروم لوگوں کے طرز عمل کو بھی برداشت کرتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہوتا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا۔ یہ برداشت وہ تنگ دلی سے نہیں بلکہ وسعت قلبی سے کرتا ہے۔ کیونکہ وہ مضبوط کردار اور کھلے دل کا مالک ہوتا ہے۔ اور اس نے ان محروم لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی مشعل اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ اس نے بیماروں کے لئے شفایابی کا تریاق اتھا رکھا ہوتا ہے۔ اور وہ اس پر اجر کا طالب صرف اللہ سے ہوتا ہے اور آخرت میں ہوتا ہے۔ اور آخر کار تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ بھی اللہ ہی ہے۔ اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔

٭٭٭٭

اب انسانیت کے لئے مومن قیادت کے کردار کے موضوع پر بات ہوتی ہے۔ یہ قیادت اب اسلامی جماعت کی شکل میں وجود میں لائی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ بنی اسرائیل کے ہاتھ میں تھی۔ ان کو کتاب دی گئی۔ حکومت دی گئی ، نبوت دی گئی مگر انہوں نے اختلافات شروع کر دئیے۔ اور ان سے یہ قیادت اور منصب لے کر اے محمد ﷺ اب آپ کو دے دیا گیا ہے۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے۔ اور دعوت اسلامی نہایت ہی مشکل دور سے گزر رہی تھی لیکن آدم (علیہ السلام) سے ادھر اس کا مزاج ، اس کی نوعیت اور مقاصد اور مہم ایک ہی رہی ہے۔

آیت 14 { قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ اہل ِایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ ذرا درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے“ اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے تقریباً وسط میں نازل ہوئی ہے۔ گویا اس وقت حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے ‘ یعنی ابھی اہل ِمکہ ّپر اتمامِ حجت نہیں ہوا تھا اور ابھی ان کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔ چناچہ اہل ایمان کو تلقین کی جارہی ہے کہ وہ مشرکین کے مخالفانہ روییّسے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ جہالت میں ڈوبے ہوئے گمراہ لوگ ہیں ‘ انہیں ”ایام اللہ“ کے بارے میں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ہے ہی نہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ جس عذاب نے ماضی کی بڑی بڑی اقوام کو نیست و نابود کردیا تھا وہ ان پر بھی آسکتا ہے۔ لہٰذا ا بھی آپ لوگ ان سے درگزر کریں اور ان کے معاملے میں جلدی کرتے ہوئے یہ نہ سوچیں کہ نہ معلوم اللہ نے انہیں اس قدر ڈھیل کیوں دے رکھی ہے اور یہ کہ ان پر عذاب موعود آ کیوں نہیں جاتا ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ابھی مزید مہلت دینا چاہتا ہے۔ { لِیَجْزِیَ قَوْمًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تاکہ اللہ بدلہ دے ایک قوم کو ان کی اپنی کمائی کے مطابق۔“

آیت 14 - سورہ جاثیہ: (قل للذين آمنوا يغفروا للذين لا يرجون أيام الله ليجزي قوما بما كانوا يكسبون...) - اردو