سورہ جاثیہ: آیت 21 - أم حسب الذين اجترحوا السيئات... - اردو

آیت 21 کی تفسیر, سورہ جاثیہ

أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ ٱجْتَرَحُوا۟ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ

اردو ترجمہ

کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Am hasiba allatheena ijtarahoo alssayyiati an najAAalahum kaallatheena amanoo waAAamiloo alssalihati sawaan mahyahum wamamatuhum saa ma yahkumoona

آیت 21 کی تفسیر

آیت نمبر 21 تا 22

ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا یہاں بھی بھاری ہوگا اور آخرت میں بھی بھاری ہوگا۔ اور یہ اصول اللہ کی اس کائنات کے نقشے میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتا ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق حق پر ہوتی ہے۔ شریعت کی تشکیل بھی حق پر ہوتی ہے۔ جس چیز کے ساتھ یہ کائنات قائم ہے ، وہ توازن اور اعتدال ہے اور اسی اصول پر انسانی زندگی بھی قائم ہے یعنی عدل و انصاف جس کا اظہار اچھے کام کرنے والوں اور برے کام کرنے والوں کے درمیان فرق کر کے کیا گیا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء و سزادی گئی اگر وہ نیک ہوا یا گمراہ ہوا ۔ تا کہ تمام لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جاسکے۔

وھم لا یظلمون (45 : 22) “ اور لوگوں پر ہرگز ظلم نہ کیا جائے گا ”۔ یہ مفہوم کہ اس کائنات کی تخلیق کے اصل نقشے میں حق بنیادی چیز ہے۔ اور یہ کہ جس طرح کائنات کے اندر حق ہے ، اسی طرح شریعت کے اندر حق ہے اور یہ کہ یوم الحساب میں اسی حق پر حساب و کتاب ہوگا۔ یہ مفہوم اور مضمون قرآن میں بار بار آتا ہے کیونکہ یہ اسلامی تصور حیات کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ تمام شاخیں اس اصول پر مبنی ہیں۔ انسانی نفس ، آفاق کائنات اور اسلامی شریعت سب اس سچائی پر مبنی ہیں۔ یہی ہے “ کائنات ، حیات اور انسان اور انسان اسلام کی نظر میں ” میری الگ کتاب کا موضوع۔ یہ انشاء اللہ جلد پیش ہوگی۔

٭٭٭٭

اب اس عظیم اصول کے بالمقابل اور شریعت کے بالمقابل لوگوں کی خواہشات ہوتی ہیں جو بدلتی رہتی ہیں۔ ان خواہشات کو لوگ اپنا لیتے ہیں ، ایسے لوگ گمراہی میں اس قدر دور چلے جاتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔

آیت 21 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”جو لوگ ُ بری باتوں کا ارتکاب کر رہے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ؟“ { سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ”کہ ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہوجائے ؟ بہت برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں !“ قیامت کے حساب اور آخرت کی زندگی کے بارے میں عقلی اور منطقی سطح پر یہ ایک مضبوط دلیل ہے۔ اگر دنیا کے نیکو کاروں کو کوئی اجر و انعام نہ ملے ‘ مجرموں کو اپنے جرائم کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور نیک و بد سب برابر ہوجائیں تو اس سے بڑا ظلم بھلا اور کیا ہوگا ؟ دنیا میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو حرام و حلال کی تمیز ختم کر کے اور جائز و ناجائز کی پابندیوں سے بےنیاز ہو کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ دوسری طرف اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جو زندگی کے ہر معاملے میں ہمیشہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں۔ وہ اپنے فائدے کے لیے کسی کا حق نہیں مارتے۔ وہ فاقوں سے رہنا برداشت کرلیتے ہیں مگر حرام نہیں کھاتے۔ اب فرض کریں کہ اگر دنیا کی زندگی ہی آخری زندگی ہو ‘ نہ آخرت ہو اور نہ ہی مرنے کے بعد بےلاگ حساب و کتاب کا کوئی مرحلہ درپیش ہو ‘ نہ نیک اور دیانت دار لوگوں کے لیے کوئی جزا ہو اور نہ برے لوگوں کے لیے کوئی سزا ‘ تو ایسی صورت میں قاتلوں ‘ لٹیروں اور ظالموں کے تو گویا وارے نیارے ہوگئے ‘ جبکہ نیک ‘ شریف اور دیانتدار قسم کے لوگ سرا سر گھاٹے میں رہ گئے۔ اس لیے اگر قیامت قائم نہیں ہوتی ‘ نیکوکاروں کو ان کے نیک اعمال کی جزا نہیں ملتی اور بدکاروں کو ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا تو یہ بنی نوع انسان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ چناچہ جو آخرت کو نہیں مانتا وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت ِعدل کا ہی منکر ہے۔

اصل دین چار چیزیں ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم اور ممانعت یہ چاروں صرف اللہ کی اختیار میں ہیں اس کے حلال کو حلال اس کے حرام بتائے ہوئے کو حرام ماننا، اس کے حکموں کو قابل تعمیل اور لائق تسلیم جاننا، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے باز آجانا اور حلال حرام امر و نہی کا مالک صرف اسی کو جاننا بس یہ دین کی اصل ہے۔ حضرت ابو القاسم ﷺ کا فرمان ہے کہ جس طرح ببول کے درخت سے انگور پیدا نہیں ہوسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک کاروں کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے یہ حدیث غریب ہے۔ سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ کعبتہ اللہ کی نیو میں سے ایک پتھر نکلا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ تم برائیاں کرتے ہوئے نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی خاردار درخت میں سے انگور چننا چاہتا ہو۔ طبرانی میں ہے کہ حضرت تمیم داری رات بھر تہجد میں اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ ہر ایک شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے گا اور کسی پر اس کی طرف سے ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جل و علا فرماتا ہے کہ تم نے انہیں بھی دیکھا جو اپنی خواہشوں کو اللہ بنائے ہوئے ہیں۔ جس کام کی طرف طبیعت جھکی کر ڈالا جس سے دل رکا چھوڑ دیا۔ یہ آیت معتزلہ کے اس اصول کو رد کرتی ہے کہ اچھائی برائی عقلی ہے۔ حضرت امام مالک اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس کے دل میں جس کی عبادت کا خیال گذرتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہے اس کے بعد کے جملے کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر اسے مستحق گمراہی جان کر گمراہ کردیا دوسرا معنی یہ کہ اس کے پاس علم و حجت دلیل و سند آگئی پھر اسے گمراہ کیا۔ یہ دوسری بات پہلی کو بھی مستلزم ہے اور پہلی دوسری کو مستلزم نہیں۔ اس کے کانوں پر مہر ہے نفع دینے والی شرعی بات سنتا ہی نہیں۔ اس کے دل پر مہر ہے ہدایت کی بات دل میں اترتی ہی نہیں اس کی آنکھوں پر پردہ ہے کوئی دلیل اسے دکھتی ہی نہیں بھلا اب اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے ؟ کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ انہیں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

آیت 21 - سورہ جاثیہ: (أم حسب الذين اجترحوا السيئات أن نجعلهم كالذين آمنوا وعملوا الصالحات سواء محياهم ومماتهم ۚ ساء ما يحكمون...) - اردو