آیت نمبر 29
اب ان کو معلوم ہوگا کہ اس اعمال نامے سے کوئی چھوٹی بڑی شے رہ نہیں گئی۔ اس لیے کہ ہر چیز اللہ کے علم کے مطابق لکھی گئی ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں ہو سکتی۔
اس کے بعد ان اقوام و ملل کی تقسیم ہوگی ، مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو صرف دو حصوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ تمام اقوام و ملل کے لوگ اب دو طبقے ہوں گے۔ ایک گروہ اور طبقہ اہل ایمان کا ہوگا اور ایک اہل کفر کا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک صرف دو پارٹیاں ہیں اور دو جھنڈے ہیں۔ حزب اللہ اور حز الشیطان۔ اس کے علاوہ تمام ملتیں ، تمام فرقے اور مذاہب ختم ہوں گے۔ تمام آبادی دو گروہ ہوجائے گی۔
آیت 29 { ہٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ } ”یہ ہمارا تیار کردہ اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا۔“ یہ وہ ریکارڈ ہے جس میں ہم نے تمہارے ایک ایک عمل کو محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ ابھی تمہاری ایک ایک حرکت کی ٹھیک ٹھیک تفصیل بتادے گا اور تمہارے خلاف بالکل ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ { اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جا رہے تھے۔“ اس ”لکھنے“ کے مفہوم میں بہت وسعت اور جامعیت ہے۔ عام طور پر ہمارا ذہن لکھنے کے انسانی طور طریقوں کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ان طریقوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایسی تبدیلیاں آچکی ہیں جن کے بارے میں زمانہ ماضی میں کبھی ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہم قلم اور دوات سے لکھا کرتے تھے مگر آج اس سے کہیں بہتر لکھائی کمپیوٹر کے ذریعے سے ہوجاتی ہے۔ پھر آڈیو/ویڈیو ریکارڈنگ بھی تحریر ہی کی ترقی یافتہ صورت ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے ہاں کی لکھائی کا تصور ہمارے ذہن سے بہت بالا ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر انسان کی زندگی کے ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحے کی تفصیلی روداد تیار ہو رہی ہے۔ وقت آنے پر بس ایک اشارہ ہوگا اور متعلقہ انسان کی زندگی کی مکمل تصویر سامنے آجائے گی۔