سورہ جاثیہ: آیت 31 - وأما الذين كفروا أفلم تكن... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورہ جاثیہ

وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَفَلَمْ تَكُنْ ءَايَٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱسْتَكْبَرْتُمْ وَكُنتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ

اردو ترجمہ

اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا "کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waamma allatheena kafaroo afalam takun ayatee tutla AAalaykum faistakbartum wakuntum qawman mujrimeena

آیت 31 کی تفسیر

آیت نمبر 31 تا 32

اب ذرا دیکھو ، کیا حال ہے ؟ اور تمہیں کس قدر یقین آرہا ہے۔ قدرے وقفے کے بعد اب ان کی ذہنی دنیا کے حالات کہ اب ان پر چودہ طبق روشن ہیں :

آیت 31 { وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا“ { اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ } ”ان سے اللہ پوچھے گا کہ کیا تمہیں میری آیات پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟“ اس آیت میں اگرچہ کفار کا ذکر ہے ‘ لیکن اس مفہوم کی آیات کے حوالے سے یہ اہم نکتہ مدنظر رہے کہ ہم بھی جب قرآن سنتے ہیں تو اپنے اور پڑھ کر سنانے والے کے بارے میں اس جملے کا مفہوم ضرور یاد رکھنا چاہیے۔ اسی طرح ان سطور کو پڑھنے والے ہر قاری کے ذہن میں بھی یہ تصور ضرور ہونا چاہیے کہ قرآن کا پیغام اس تک پہنچ گیا ہے اور وہ اس کے بارے میں ضرور مسئول ہوگا۔ { فَاسْتَکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ } ”تو تم نے استکبار کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔“ ہماری آیات کے آگے سر جھکانے اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے کے بجائے تم نے استکبار کا رویہ اپنا یا ‘ اس لحاظ سے واقعی تم بہت بڑے مجرم تھے۔

آیت 31 - سورہ جاثیہ: (وأما الذين كفروا أفلم تكن آياتي تتلى عليكم فاستكبرتم وكنتم قوما مجرمين...) - اردو