آیت نمبر 33
اس کے بعد دوبارہ ان کو شرمندہ کیا جاتا ہے اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہوگا اور ان کا بہت ہی دردناک انجام ہوگا۔
آیت 33 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کے وہ تمام ُ برے اعمال جو انہوں نے کیے تھے“ { وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور انہیں گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا وہ استہزا کیا کرتے تھے۔“ دنیا میں وہ لوگ جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے ‘ چناچہ وہی جہنم انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے وہاں موجود ہوگی۔