سورہ جاثیہ: آیت 35 - ذلكم بأنكم اتخذتم آيات الله... - اردو

آیت 35 کی تفسیر, سورہ جاثیہ

ذَٰلِكُم بِأَنَّكُمُ ٱتَّخَذْتُمْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

اردو ترجمہ

یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thalikum biannakumu ittakhathtum ayati Allahi huzuwan wagharratkumu alhayatu alddunya faalyawma la yukhrajoona minha wala hum yustaAAtaboona

آیت 35 کی تفسیر

آیت نمبر 35 (1)

اب ان کے آخری انجام کے اعلان پر پردہ گرتا ہے ، جہنم میں ان کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ، نہ ان سے کوئی عذر طلب کیا جاتا ہے اور نہ معافی کی درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔

آیت نمبر 35 (2)

گویا ان الفاظ کے ساتھ ہی ہم کرخت آوازیں سنتے ہیں اور جہنم کے دروازے ان پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ اب یہ منظر یہاں ختم ہوتا ہے اور اس حالت میں کوئی تغیر اور تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

اس مقام پر اللہ کی حمد و ثنا کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ اس تمہید اور منظر کے بعد سورت کے آخری کلمات نہایت ہی موثر ہیں۔

آیت 35 { ذٰلِکُمْ بِاَنَّکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ہُزُوًا وَّغَرَّتْکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا } ”یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا تھا اور دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا۔“ { فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْہَا وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ } ”تو آج انہیں نکالا نہیں جائے گا اس سے اور نہ ہی انہیں موقع دیا جائے گا کہ وہ توبہ کرلیں۔“ اب ان کے لیے موقع نہیں ہوگا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کرلیں۔ توبہ کا موقع تو دنیا میں تھا اور وہ موقع وہ لوگ کھو چکے ہوں گے۔

آیت 35 - سورہ جاثیہ: (ذلكم بأنكم اتخذتم آيات الله هزوا وغرتكم الحياة الدنيا ۚ فاليوم لا يخرجون منها ولا هم يستعتبون...) - اردو