سورۃ الجن: آیت 27 - إلا من ارتضى من رسول... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورۃ الجن

إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُۥ يَسْلُكُ مِنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ رَصَدًا

اردو ترجمہ

سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Illa mani irtada min rasoolin fainnahu yasluku min bayni yadayhi wamin khalfihi rasadan

آیت 27 کی تفسیر

الا من ................ رصدا (72) لیعلم ................ شیء عددا (27 : 82) ” سوائے اس رسول کے جسے اس نے (غیب کا علم دینے کے لئے) پسند کرلیا ہو ، تو اس کے ٓگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچادیئے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ پس وہ رسول جن کو وہ اپنی دعوت کے پہنچانے کے لئے چن لیتا ہے ان کو اللہ اپنے عالم غیب میں سے کچھ پہلو بتا دیتا ہے اور وہ پہلو وہی ہے جو وحی پر مشتمل ہے۔ یعنی وحی کے موضوعات ، اس کا طریقہ یعنی وہ فرشتے ، جو وحی اٹھا کر لاتے ہیں اور وہ سرچشمہ جس سے وہ لاتے ہیں یعنی لوح محفوظ اور اس کا نظام حفاظت جس کا ذکر ہو اور وہ دوسرے امور جن کا تعلق رسول کی رسالت اور دعوت کے ساتھ ہے۔ یہ تمام امور غیبی امور ہیں اور انسانوں میں سے کوئی ان کے بارے میں نہیں جانتا۔ (لہٰذا رسول کو جو غیب دیا جاتا ہے وہ وحی الٰہی سے متعلق ہوتا ہے)

اور اس کے ساتھ ساتھ رسولوں کے ارد گرد اللہ کے نگراں مقرر کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نگران ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے کام کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔ یہ نگران ان کو شیطان کے وسوسوں سے بھی بچاتے ہیں ، شیطانوں کی مداخلتوں سے بھی بچاتے ہیں ، اور شیطان کی خواہشات اور تمناﺅں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہ ان کو ان بشری کمزوریوں سے بھی بچاتے ہیں کہ وہ رسالت و دعوت میں کوئی سستی نہ کریں ، کسی بات کو بھلا نہ دیں ، راست سے منحرف نہ ہوجائیں اور ان کو دوسرے بشری نقائص اور ناتوانیوں سے بچاتے ہیں۔

لیکن انبیاء کے اس حفاظتی نظام میں ایک قسم کا خوف اور حساسیت پائی جاتی ہے۔ ذرا انداز بیان پر غور کریں۔

فانہ یسلک ................ رصد (27 : 72) ” تو اس کے آگے اور پیچھے دو محافظ لگا دیتا ہے “۔ تو ہر رسول کی مسلسل نگرانی ہوا کرتی ہے کہ آیا وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے یا نہیں۔

لیعلم ................ ربھم (27 : 82) ” تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچادیئے “۔ اللہ تو پہلے سے جانتا ہے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ ان سے عمل تبلیغ عملاً صادر ہوجائے اور وہ نظر آجائے اور اللہ کا علم اس سے متعلق ہو۔

واحاط بما لدیھم (27 : 82) ” اور وہ ان کے پورے ماحول کو احاطہ کیے ہوئے ہے “۔ ان کے نفوس ، ان کی زندگی جو کچھ بھی ہے اور ان کے ماحول میں جو کچھ بھی ہے اسے اللہ جانتا ہے۔ اللہ کے علم سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی۔

واحصی کل شیء عدادا (27 : 82) ” اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے “۔ نہ صرف یہ کہ جو رسولوں سے متعلق ہے ، بلکہ اس کا احاطہ اور اس کا شمار ہر چیز کو شامل ہے۔ ذرے ذرے کو بھی شامل ہے۔

ذرا اس حالت کا تصور کیجئے !

ایک رسول تبلیغ کررہا ہے اور اس کے آگے پیچھے نگراں لگے ہوئے ہیں۔ یہ محافظ بھی ہیں اور رقیب بھی ہیں اور اللہ رسولوں کے پورے ماحول سے براہ راست رابطہ رکھتا ہے۔ لہٰذا رسول کا فریضہ اور آپ کی سروس ایک لازمی فوجی سروس ہے۔ اور آپ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ رسول اپنا کام کررہا ہے۔ خود مختار نہیں ہے ، نہ وہ کمزوری دکھا سکتا ہے ، نہ اپنی خواہش کی پیروی کرسکتا ہے۔ نہ اپنی پسند کے پیچھے جاسکتا ہے بلکہ ایک نہایت ہی حساس ، سنجیدہ اور سخت ڈیوٹی ہے جس کی نگرانی ہورہی ہے۔ ہر رسول اس بات کو جانتا ہے اور اس طرح اپنا فریضہ ادا کرتا چلا جاتا ہے۔ اور ادھر ادھر دیکھتا بھی نہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی سخت نگرانی ہورہی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر فعل اللہ کے علم میں ہے اور برملا ہے۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر ہر شخص کے دل میں رسول سے نہایت گہری ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور ہمدردی کے ساتھ ایک خوف اور دہشت بھی اس کے دامن گیر ہوجاتی ہے کہ دعوت دین کا معاملہ کس قدر حساس ہے۔

اس خوفناک اور مرعوب کن ہدایت پر یہ سورت ختم ہوجاتی ہے ، جس کا آغاز بھی اسی قسم کے ماحول سے ہوا تھا ، جسے جنوں کے طویل اقتباس سے شروع کیا گیا تھا اور جس میں جنوں کے کپکپادینے والے واقعات بیان ہوئے تھے۔

یہ سورت جس کی کل آیا 12 سے زیادہ نہیں ہیں ، اسلامی نظریہ حیات سے متعلق بیشمار حقائق کو طے کرتی ہے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا ایک نہایت ہی متوازن اور سیدھا راستہ تجویز کرتی ہے جس کے اندر کوئی غلو نہیں ہے اور نہ افراط وتفریط ہے۔ یہ سورت عالم کے بارے میں بھی نہایت معتدل لائن دیتی ہے۔ انسانوں کے سامنے عالم غیب کے دروازے بھی بند نہیں کرتی اور نہ انسانوں کو عالم غیب کے بارے میں افسانے اور خرافات گھڑنے کی اجازت دیتی ہے۔ اور جنوں کا یہ تبصرہ اس سورت میں نہایت ہی قیمتی ہے۔

انا سمعنا ........ عجبا (27 : 1) یھدی الی ................ بہ (27 : 2) ” ہم نے قرآن سنا جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے “۔

آیت 27{ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ”سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے“ اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتادیا گیا ہے۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے رسولوں علیہ السلام میں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضور ﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضور ﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے علم غیب کی درست تعریف definition طے کرنا ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ”غیب“ کا تعلق مخلوق سے ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ”غیب“ ہے ہی نہیں ‘ ہر شے ہر آن اس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ”عالم غیب“ ہے۔ مثلاً جنت ‘ دوزخ ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل - کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم غیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے : { وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ۔ } الانعام ”اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے“۔ حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر جنت ‘ دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا ‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپ ﷺ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ آپ ﷺ نمازِاستسقاء پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپ ﷺ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں۔ چناچہ میرا ہاتھ بےاختیار اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بےاختیار پیچھے ہٹ گیا۔ بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم غیب کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ ورنہ جہاں تک امور دنیا کے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضور ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ رض کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ 1 کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔ چناچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل - کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرم ﷺ کو ُ کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔ حضور ﷺ کے علم غیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں۔ میں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا : 1 حضور ﷺ کا علم ذاتی نہیں ‘ عطائی ہے ‘ یعنی اللہ کا عطا کردہ ہے۔2 آپ ﷺ کا علم قدیم نہیں حادث ہے۔ یعنی پہلے نہیں تھا ‘ جب اللہ نے عطا کیا تو آپ ﷺ کو علم ہوگیا۔3 آپ ﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘ محدود ہے۔ دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ چناچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو علم غیب عطا فرمایا ‘ جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔ اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضور ﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا ؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضور ﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ ! { فَاِنَّـہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ } ”تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔

آیت 27 - سورۃ الجن: (إلا من ارتضى من رسول فإنه يسلك من بين يديه ومن خلفه رصدا...) - اردو