واخرین .................... الحکیم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں ، اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ آخر ون کون ہیں ان کے بارے میں متعدد روایات آئی ہیں۔
امام بخاری نے روایت کی ہے ، عبدالعزیز ابن عبداللہ سے ، انہوں نے سلیمان ابن بلال سے ، انہوں نے ثور سے ، انہوں نے ابو الغیث سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ فرماتے ہیں ” ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ پر سورة جمعہ نازل ہوئی۔
واخرین ................ بھم (26 : 3) ” اور ان دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں “۔ تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اللہ کے رسول وہ کون تو حضور نے ان کے سوال کا جواب نہ دیا ، یہاں تک کہ تین بار آپ سے پوچھا گیا۔ ہم میں سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ تو حضور نے اپنا دست مبارک سلمان فارسی پر رکھا اور پھر کہا ، ” اگر ایمان ثریا کے اندر بھی ہو تو ان لوگوں سے بعض لوگ یا ایک شخص اسے پالے گا “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں اہل ایران شامل ہیں۔ اس لئے مجاہد کہتے ہیں اس سے مراد عجمی لوگوں میں وہ سب ہیں ، جنہوں نے نبی ﷺ کی تصدیق کی۔
ابن ابو حاتم نے روایت کی ہے ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابراہیم ابن علاء زبیری سے ، انہوں نے ولید ابن مسلم سے ، انہوں نے ابو محمد عیسیٰ ابن موسیٰ سے ، انہوں نے ابوحازم سے ، انہوں نے سہل ابن سعد ساعدی سے ، وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میری امت کے بعض لوگوں کی پشتوں کی پشتوں میں اسے مرد اور عورتیں ہوں گی جو جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے اور اس کے بعد آپ نے پڑھا۔
واخرین ................ بھم (26 : 3) یعنی محمد ﷺ کے بعد آئندہ آنے والے لوگ۔ دونوں اقوال کی گنجائش ہے یعنی وہ لوگ جو عرب کے علاوہ ہیں اور وہ لوگ جو مسلمان ہوگئے تھے ، حضور ﷺ کے دور میں اور ان کی اولاد جو بعد میں پیدا ہوگی۔ ان آیات اور روایات میں اشارہ ہے کہ یہ امت آئندہ زمانوں اور زمین کے تمام حصوں میں مسلسل رہنے والی امت ہے ، اور اس نے اس ذمہ داری کو قیامت تک پورا کرنا ہے۔ اس آخری دین کی حامل یہ امت آخر زمانے تک رہے گی۔
وھوالعزیز الحکیم (26 : 3) ” اور اللہ زبردست اور حکیم ہے “۔ وہ قوی ہے ، اور کسی امت کو مختار بنانے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ حکیم ہے اور اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کس منصب کے لئے چنے گئے۔ اور متقدمین اور متاخرین میں سے لوگوں کو درجے دینا بھی اس کا فضل وکرم ہے۔
آیت 3{ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ } ”اور ان ہی میں سے ان دوسرے لوگوں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔“ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا ہے۔“ وَّاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ کا عطف اُمّیّٖنَ پر ہے۔ یعنی دوسرے کچھ اور بھی ہیں جن کی طرف آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ حضور ﷺ کی بعثت تو قیامت تک لیے ہے۔ ظاہر ہے آپ ﷺ کی امت میں ہر نسل ‘ ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ شامل ہوں گے۔ متفق علیہ احادیث کے مطابق حضور ﷺ سے جب اٰخَرِیْنَ مِنْہُمْکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی رض کے کندھے پر رکھ کر فرمایا کہ ”یہ اور اس کی قوم کے لوگ“۔ مزید فرمایا کہ دین اگر ثریا پر بھی ہوگا تو اس کی قوم کا ایک شخص اس تک پہنچ جائے گا۔ حضور ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں تمام حنفی علماء متفق ہیں کہ اس کے مصداق حضرت امام ابوحنیفہ - ہیں ‘ جو ایرانی النسل ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ ایرانی قوم بحیثیت مجموعی بہت ذہین ہے۔ اس قوم نے ایک سے بڑھ کر ایک فلاسفر پیدا کیا ہے ‘ بلکہ ہمارے علمائے کلام تو سب کے سب ایرانی ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی قوم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے فلسفہ اور منطق ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ ماضی میں یونان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ ایران بھی فلسفہ و منطق کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعد میں جرمن قوم نے بھی اس میدان میں نام پیدا کیا۔ یہ سب اقوام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت حام کی نسل سے ہیں۔ اس ضمن میں میری تحقیق یہ ہے کہ حضرت سام کی نسل کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے چن لیا تھا ‘ جبکہ حضرت حام کی نسل کو حکمت میں برگزیدہ کیا تھا۔ میں نے آیت زیر مطالعہ کو ایٹم atom اور اس کے مرکزہ nucleus کے گرد مختلف دائروں میں گھومنے والے الیکٹرانز کی مثال سے سمجھا ہے۔ اس مثال کے مطابق امت مسلمہ کا مرکزہ nucleus ”اُمیین“ پر مشتمل ہے۔ یعنی بنواسماعیل اور حضور ﷺ کے زمانے کے تمام اہل عرب جو اس وقت آپ ﷺ کے براہ راست مخاطب تھے۔ اس کے بعد نیوکلیس کے گرد پہلا دائرہ ایرانیوں کے الیکٹرانز سے بنا۔ پھر رومی ‘ قبطی ‘ سندھی ‘ ہندی وغیرہ اقوام کے الیکٹرانز کے دائرے بنے اور پھیلتے گئے۔ یہ دائرے ظاہر ہے قیامت تک مزید بھی پھیلیں گے لیکن امیین نیوکلیس کے علاوہ باقی تمام اقوام کا شمار ”آخرین“ میں ہوگا۔ حضور ﷺ کی دعوت کے حوالے سے ”اُمیین“ اور ”آخرین“ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ امیین پر وہی قانون لاگو ہوا جو سابقہ رسولوں علیہ السلام کی اقوام پر ہوا تھا۔ یعنی اتمامِ حجت کے بعد بھی جو لوگ ایمان نہ لائیں انہیں نیست و نابود کردیا جائے۔ چناچہ حضور ﷺ کی طرف سے اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ”اُمیین“ کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی۔ 9 ہجری میں ان کو ایک اعلانِ عام سورۃ التوبہ ‘ رکوع اول کے ذریعے متنبہ کردیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اندر ایمان لے آئو ورنہ قتل کردیے جائو گے۔ اس کے برعکس ”آخرین“ پر مذکورہ قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ان میں سے کوئی اسلام کی دعوت کو مانے یا نہ مانے ‘ ایمان لائے یا نہ لائے اسے اختیار ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کے مکمل غلبے کی صورت میں بھی کسی سے اس کے مذہب کے بارے میں تعرض نہیں ہوگا۔ البتہ ملک کا نظام اللہ کے قانون کے مطابق چلایا جائے گا ‘ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔