یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔
اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ پر انسانی دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔
ذلک من ایت اللہ (81 : 81) ” یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ “ ان کو غار میں یوں رکھنا ، سورج کی شعاعوں سے ان کو محفوظ رکھنا ، اور سورج کی روشنی ان کو فراہم کرنا اور غار کے اندر ان کو اس حال میں رکھنا کہ نہ مرتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔
من یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشداً (81 : 81) ” جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ “ ہدایت اور ضلالت کے لئے ایک قانون قدرت اور ایک سنت الہیہ ہے جو شخص آیات الہیہ کو دیکھ کر ہدایت کی راہ لے ، اس کے ناموس قدرت کے تحت تو وہ حقیقی ہدایت ہوگا اور جس نے ہدایت کے اسباب ہی فراہم نہ کئے وہ گمراہ ہوا اور اس کی گمراہی بھی سنت الہیہ کے مطابق اور ناموس قدرت کے تحت ہوتی ہے اور اسے یوں اللہ ہی گمراہ کردیتا ہے اور پھر اس کا کوئی ولی مرشد نہیں ہوتا۔
اس درمیانی نوٹ کے بعد یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوتے میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ سو رہے ہیں اور ان کا کتا کتوں کی عادت کے مطابق اپنے باز و غار کے دہانے پر پھیلائے سو رہا ہے۔ گویا وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جو بھی ان کو دیکھے مرعوب ہو کر بھاگ اٹھے۔ کیونکہ وہ اس طرح سو رہے ہیں کہ جاگتے نظر آتے ہیں ، کروٹ بدل رہے ہیں اور جاگتے نہیں۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر ان کے بارے میں تاکید وہ اپنے مقررہ وقت تک یوں ہی رہیں۔
…
اچانک یہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔ ان میں زندگی کی حرکت دوڑ رہی ہے دیکھو اور سنو اس نئیم نظر کو۔ “
وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ یعنی اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا جس کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی یا دھوپ اس میں دن کے کسی وقت بھی نہیں پڑتی تھی۔ ہمارے ہاں بھی دھوپ اور سائے کا یہی اصول کار فرما ہے۔ سورج کسی بھی موسم میں شمال کی طرف نہیں جاتا۔ اسی اصول کے تحت کارخانوں وغیرہ کی بڑی بڑی عمارات میں یہاں north light shells کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ایسے shells سے روشنی تو بلڈنگ میں آئے مگر دھوپ براہ راست نہ آئے۔وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ یعنی غار اندر سے کافی کشادہ تھی اور اصحاب کہف اس کے اندر کھلی جگہ میں سوئے ہوئے تھے۔
غار اور سورج کی شعائیں یہ دلیل ہے اس امر کی کہ اس غار کا منہ شمال رخ ہے۔ سورج کے طلوع کے وقت ان کے دائیں جانب دھوپ کی چھاؤں جھک جاتی ہے پس دوپہرے کے وقت وہاں بالکل دھوپ نہیں رہتی۔ سورج کی بلندی کے ساتھ ہی ایسی جگہ سے شعاعیں دھوپ کی کم ہوتی جاتی ہیں اور سورج کے ڈوبنے کے وقت دھوپ ان کے غار کی طرف اس کے دروازے کے شمال رخ سے جاتی ہے مشرق جانب سے۔ علم ہیئت کے جاننے والے اسے خوب سمجھ سکتے ہیں۔ جنہیں سورج چاند اور ستاروں کی چال کا علم ہے۔ اگر غار کا دروازہ مشرق رخ ہوتا تو سورج کے غروب کے وقت وہاں دھوپ بالکل نہ جاتی اور اگر قبلہ رخ ہوتا تو سورج کے طلوع کے وقت دھوپ نہ پہنچتی اور نہ غروب کے وقت پہنچتی اور نہ سایہ دائیں بائیں جھکتا اور اگر دروازہ مغرب رخ ہوتا تو بھی سورج نکلنے کے وقت اندر دھوپ نہ جاسکتی بلکہ زوال کے بعد اندر پہنچتی اور پھر برابر مغرب تک رہتی۔ پس ٹھیک بات وہی ہے جو ہم بیان نے کی فللہ الحمد تقرضہم کے معنی حضرت ابن عباس ؓ نے ترک کرنے اور چھوڑ دینے کے کئے ہمیں اس سے کوئی فائدہ نہیں، نہ اس سے کسی شرعی مقصد کا حصول ہوتا ہے۔ پھر بھی بعض مفسرین نے اس میں تکلیف اٹھائی ہے کوئی کہتا ہے وہ ایلہ کے قریب ہے کوئی کہتا ہے نینویٰ کے پاس ہے کوئی کہتا ہے، روم میں ہے کوئی کہتا ہے بلقا میں ہے۔ اصل علم اللہ ہی کو ہے وہ کہاں ہے اگر اس میں کوئی دینی مصلحت یا ہمارا کوئی مذہبی فائدہ ہوتا تو یقینا اللہ تعالیٰ ہمیں بتادیتا اپنے رسول ﷺ کی زبانی بیان کرا دیتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تمہیں جو جو کام اور چیزیں جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والی تھیں ان میں سے ایک بھی ترک کئے بغیر میں نے بتادی ہیں پس اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت بیان فرما دی اور اس کی جگہ نہیں بتائی۔ فرما دیا کہ سورج کے طلوع کے وقت ان کے غار سے وہ دائیں جانب جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت انہیں بائیں طرف چھوڑ دیتا ہے، وہ اس سے فراخی میں ہیں، انہیں دھوپ کی تپش نہیں پہنچتی ورنہ ان کے بدن اور کپڑے جل جاتے یہ اللہ کی ایک نشانی ہے کہ رب انہیں اس غار میں پہنچایا جہاں انہیں زندہ رکھا دھوپ بھی پہنچے ہوا بھی جائے چاندنی بھی رہے تاکہ نہ نیند میں خلل آئے نہ نقصان پہنچے۔ فی الواقع اللہ کر طرف سے یہ بھی کامل نشان قدرت ہے۔ ان نوجوانوں موحدوں کی ہدایت خود اللہ نے کی تھی، یہ راہ راست پاچکے تھے کسی کے بس میں نہ تھا کہ انہیں گمراہ کرسکے اور اس کے برعکس جسے وہ راہ نہ دکھائے اس کا ہادی کوئی نہیں۔