سورہ کہف: آیت 2 - قيما لينذر بأسا شديدا من... - اردو

آیت 2 کی تفسیر, سورہ کہف

قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا

اردو ترجمہ

ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qayyiman liyunthira basan shadeedan min ladunhu wayubashshira almumineena allatheena yaAAmaloona alssalihati anna lahum ajran hasanan

آیت 2 کی تفسیر

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟

لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔

او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔

اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟

لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “

اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔

لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔

وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔

الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔

اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔

آیت 2 قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ یعنی نبی اکرم پر نزول قرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کردیں۔ یہاں لفظ بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی مصیبت بھوک تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی : وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۔ چناچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں : ”الْْبَاْسَآءِ“ کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے ہیں جبکہ ”وَحِیْنَ الْبَاْسِ“ سے مراد جنگ کا وقت ہے۔ بہر حال آیت زیر نظر میں ”بَاْسًا شَدِیْدًا“ سے ایک بڑی آفت بھی مراد ہوسکتی ہے اور بہت شدید قسم کی جنگ بھی۔ آفت کے معنی میں اس لفظ کا اشارہ اس دجالی فتنہ کی طرف ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے خبردار نہ کیا ہو کیونکہ یہ فتنہ ایک مؤمن کے لیے سخت ترین امتحان ہوگا اور پوری انسانی تاریخ میں اس فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔ دوسری طرف اس لفظ بَاْسًا شَدِیْدًا کو اگر خاص طور پر جنگ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے ”المَلحَمۃُ الْعُظمٰی“ مراد ہے اور اس کا تعلق بھی فتنہ دجال ہی سے ہے۔ کتب احادیث کتاب الفتن کتاب آثار القیامۃ کتاب الملاحم وغیرہ میں اس خوفناک جنگ کا ذکر بہت تفصیل سے ملتا ہے۔ عیسائی روایات میں اس جنگ کو ”ہرمجدون“ Armageddon کا نام دیا گیا ہے۔ بہر حال حضرت مسیح کے تشریف لانے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد اس فتنہ یا جنگ کا خاتمہ ہوگا۔بہت سی احادیث میں ہمیں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ دجالی فتنہ کے ساتھ سورة الکہف کی ایک خاص مناسبت ہے اور اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورة کے ساتھ ذہنی اور قلبی تعلق قائم کرنا بہت مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے احادیث میں جمعہ کے روز سورة الکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے اور اگر پوری سورت کی تلاوت نہ کی جاسکے تو کم از کم اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا بھی مفید بتایا گیا ہے۔ یہاں پر دجالی فتنہ کی حقیقت کے بارے میں کچھ وضاحت بھی ضروری ہے۔ ”دجل“ کے لفظی معنی دھوکہ اور فریب کے ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق ”دجال“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑا دھوکے باز ہو ‘ جس نے دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے جھوٹ اور فریب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔ اس لیے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ چناچہ نبی اکرم نے جن تیس دجالوں کی پیدائش کی خبر دی ہے ان سے جھوٹے نبی ہی مراد ہیں۔ دجالیت کے اس عمومی مفہوم کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں مادہ پرستی بھی ایک بہت بڑا دجالی فتنہ ہے۔ آج لوگوں کے اذہان و قلوب نظریات و افکار اور اخلاق و اقدار پر مادیت کا اس قدر غلبہ ہوگیا ہے کہ انسان اللہ کو بھول چکا ہے۔ آج وہ مسبب الاسباب کو بھول کر مادی اسباب پر توکل کرتا ہے۔ وہ قرآن کے اس فرمان کو یکسر فراموش کرچکا ہے کہ : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ آل عمران یعنی دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت کی زندگی پر پڑے ہوئے دنیا اور اس کی مادیت کے پردے سے دھوکا کھا کر انسان نے دنیوی زندگی ہی کو اصل سمجھ لیا ہے ‘ لہٰذا اس کی تمام دوڑ دھوپ اسی زندگی کے لیے ہے۔ اسی زندگی کے مستقبل کو سنوارنے کی اس کو فکر ہے اور یوں وہ مادہ پرستی کے دجالی فتنے میں گرفتار ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ دجال اور دجالی فتنے کا ایک خصوصی مفہوم بھی ہے۔ اس مفہوم میں اس سے مراد ایک مخصوص فتنہ ہے جو قرب قیامت کے زمانے میں ایک خاص شخصیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوگا۔ اس بارے میں کتب احادیث میں بڑی تفصیلات موجود ہیں لیکن بعض روایات میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں اور تضادات بھی۔ ان کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علمی سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ظاہری طور پر نظر آنے والے تضادات میں مطابقت کے پہلوؤں کو تلاش کرنا اہل علم کا کام ہے۔ بہر حال یہاں ان تفاصیل کا ذکر اور ان پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع کے بارے میں یہاں صرف اس قدر جان لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ نے قرب قیامت کے زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے اور ایک بہت بڑا فتنہ اٹھانے کے بارے میں خبریں دی ہیں۔ جو حضرات اس حوالے سے تفصیلی معلومات چاہتے ہوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ”تفسیر سورة الکہف“ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس موضوع پر ”دنیا کی حقیقت“ کے عنوان سے میری ایک تقریر کی ریکارڈنگ بھی دستیاب ہے ‘ جس میں میں نے سورة الکہف کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا ہے۔

آیت 2 - سورہ کہف: (قيما لينذر بأسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات أن لهم أجرا حسنا...) - اردو