پھر وہ اپنے اس رفیق کو لے کر ایک باغ میں پھرتا ہے۔ اس کا دل خوشی سے جوش میں آتا ہے۔ اب یہ سخت غرور کی حالت میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو اس نے پوری طرح بھلا دیا۔ اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی ضروری ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آگیا کہ یہ باغات کبھی بھی نیست و نابود نہ ہوں۔ اس نے قیام قیامت کو بالکل بھلا دیا اور اس کا صاف صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے قیام قیامت کا سرے سے انکار کردیا۔ چلو اگر قیامت قائم بھی ہوجائے تو وہاں بھی اس کے ساتھی ترجیحی سلو اور عزت کا معاملہ ہوگا۔ اس دنیا میں دو باغات کا مالک نہیں ہے ، لہٰذا لازمی ہے کہ وہاں بھی اسے یہ سہولتیں بہرحال حاصل ہوں۔
آیت 34 وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌاس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ جب ان دونوں کا آپس میں مکالمہ ہو رہا تھا اس وقت وہ دونوں باغات پھلوں سے خوب لدے ہوئے تھے جبکہ دوسرا مفہوم جو میرے نزدیک راجح ہے یہ ہے کہ اس شخص کو اللہ نے اولاد بھی خوب دے رکھی تھی۔ اس لیے کہ انسان کے لیے اس کی اولاد کی وہی حیثیت ہے جو کسی درخت کے لیے اس کے پھل کی ہوتی ہے۔فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًایہاں جس فخر سے اس شخص نے اپنی نفری کا ذکر کیا ہے اس کے اس انداز سے تو وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌ کا یہی ترجمہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کو اولاد خصوصاً بیٹوں سے بھی نوازا گیا تھا۔