راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔
نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًایہ بھنی ہوئی مچھلی تھی جس کو وہ کھانے کی غرض سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس مچھلی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی بنایا گیا تھا اور انہیں ہدایت کی گئی تھی کہ جس مقام پر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا میں چلی جائے گی اسی جگہ مطلوبہ شخصیت سے ان کی ملاقات ہوگی۔ چناچہ مجمع البحرین کے قریب پہنچ کر وہ مچھلی زندہ ہو کر ان کے توشہ دان سے باہر آئی اور اس نے سرنگ سی بنا کر دریا میں اپنی راہ لی۔ اس منظر کو حضرت یوشع بن نون نے دیکھا بھی مگر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کرنا بھول گئے۔