سورہ کہف: آیت 75 - ۞ قال ألم أقل لك... - اردو

آیت 75 کی تفسیر, سورہ کہف

۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًا

اردو ترجمہ

اُس نے کہا " میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala alam aqul laka innaka lan tastateeAAa maAAiya sabran

آیت 75 کی تفسیر

موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ اب ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ وہ اب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ وعدہ خلافی کرلی۔ اور ان کی یاد دہانی کے بعد پھر وہ بھول گئے۔ چناچہ وہ آگے بڑھ کر خود ہی اپنے لئے آخری بار مقرر فرماتے ہیں کہ اگر اب کے میں نے خلاف ورزی کی تو آپ مجھے علیحدہ کردیں۔

موسیٰ ؑ کی بےصبری۔حضرت خضر ؑ نے اس دوسری مرتبہ اور زیادہ تاکید سے حضرت موسیٰ ؑ کو ان کی منظور کی ہوئی شرط کے خلاف کرنے پر تنبیہہ فرمائی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اس بار اور ہی راہ اختیار کی اور فرمانے لگے اچھا اب کی دفعہ اور جانے دو اب اگر میں آپ پر اعتراض کروں تو مجھے آپ اپنے ساتھ نہ رہنے دینا، یقینا آپ بار بار مجھے متنبہ فرماتے رہے اور اپنی طرف سے آپ نے کوئی کمی نہیں کی اب اگر قصور کروں تو سزا پاؤں۔ ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی یاد آجاتا اور اس کے لئے آپ دعا کرتے تو پہلے اپنے لئے کرتے۔ ایک روز فرمانے لگے ہم پر اللہ کی رحمت ہو اور موسیٰ پر کاش کہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ اور بھی ٹھہرتے اور صبر کرتے تو اور یعنی بہت سی تعجب خیز باتیں معلوم ہوتیں۔ لیکن انہوں نے تو یہ کہہ کر چھٹی لے لی کہ اب اگر پوچھوں تو ساتھ چھوٹ جائے۔ میں اب زیادہ تکلیف میں آپ کو ڈالنا نہیں چاہتا۔

آیت 75 - سورہ کہف: (۞ قال ألم أقل لك إنك لن تستطيع معي صبرا...) - اردو