سورہ کہف: آیت 77 - فانطلقا حتى إذا أتيا أهل... - اردو

آیت 77 کی تفسیر, سورہ کہف

فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهْلَ قَرْيَةٍ ٱسْتَطْعَمَآ أَهْلَهَا فَأَبَوْا۟ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا

اردو ترجمہ

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جوگرا چاہتی تھی اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا موسیٰؑ نے کہا " اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faintalaqa hatta itha ataya ahla qaryatin istatAAama ahlaha faabaw an yudayyifoohuma fawajada feeha jidaran yureedu an yanqadda faaqamahu qala law shita laittakhathta AAalayhi ajran

آیت 77 کی تفسیر

یہ دونوں بھوک تھے۔ لیکن وہ دونوں ایسے گائوں میں تھے جس کے باشندے بخیل تھے۔ وہ کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلاتے تھے نہ کسی مہمان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اچانک یہ شخص دیکھتا ہے کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے۔ یہاں بھی انداز ایسا ہے کہ دیوار گویا زندہ ہے اور وہ بالا ارادہ گرنا چاہتی ہے۔

یرید ان ینقص (81 : 88) ” وہ ارادہ کرتی ہے کہ گر جائے۔ “ یہ بندئہ خدا بس دیکھتے ہی بغیر کسی معاوضہ کے دیوار کو از سر نو کھڑا کرنے میں لگ گیا۔

یہاں موسیٰ (علیہ السلام) سہ بارہ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کے طرز عمل میں کھلا تضاد ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص مشقت برداشت کرتا ہے اور اس گائوں میں یہ نیکی کا کام کرتا ہے جبکہ ہم بھوکے ہیں اور ان لوگوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا۔ کیا کم از کم یہ بات معقول نہ تھی کہ وہ اس دیوار کو درست رنے پر معاوضہ طلب کرتے اور اس کے عوض کھانا کھالیتے۔

پس اب اس سے دونوں کے درمیان جدائی ہوگئی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کوئی عذر نہ تھا۔ نہ اب دونوں کے درمیان مزید رفاقت کی کوئی گنجائش رہ گئی تھی۔

آیت 77 فَانْطَلَقَا ۪حَتّٰٓي اِذَآ اَتَيَآ اَهْلَ قَرْيَـةِۨ اسْـتَطْعَمَآ اَهْلَهَاکہ ہم مسافر ہیں بھوکے ہیں ہمیں کھانا چاہیے۔فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَااس بستی کے باشندے کچھ ایسے کٹھور دل تھے کہ پوری بستی میں سے کسی ایک شخص نے بھی انہیں کھانا کھلانے کی حامی نہ بھری۔قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًایہ ایسے ناہنجار لوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیں کھانا تک کھلانے سے انکار کردیا تھا اور آپ نے بغیر کسی معاوضے کے ان کی دیوار مرمت کردی ہے۔ بہتر ہوتا اگر آپ اس کام کی کچھ اجرت طلب کرتے اور اس کے عوض ہم کھانا ہی کھالیتے۔

ایک اور انوکھی بات۔دو دفعہ کے اس واقعہ کے بعد پھر دونوں صاحب مل کر چلے اور ایک بستی میں پہنچے مروی ہے وہ بستی ایک تھی یہاں کے لوگ بڑے ہی بخیل تھے۔ انتہا یہ کہ دو بھوکے مسافروں کے طلب کرنے پر انہوں نے روٹی کھلانے سے بھی صاف انکار کردیا۔ وہاں دیکھتے ہیں کہ ایک دیوار گرنا ہی چاہتی ہے، جگہ چھوڑ چکی ہے، جھک پڑی ہے۔ دیوار کی طرف ارادے کی اسناد بطور استعارہ کے ہے۔ اسے دیکھتے ہی کمرکس کر لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اسے مضبوط کردیا اور بالکل درست کردیا پہلے حدیث بیان ہوچکی ہے کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے لوٹا دیا۔ زخم ٹھیک ہوگیا اور دیوار درست بن گئی۔ اس وقت پھر کلیم اللہ ؑ بول اٹھے کہ سبحان اللہ ان لوگوں نے تو ہمیں کھانے تک کو نہ پوچھا بلکہ مانگنے پر بھاگ گئے۔ اب جو تم نے ان کی یہ مزدوری کردی اس پر کچھ اجرت کیوں نہ لے لی جو بالکل ہمارا حق تھا ؟ اس وقت وہ بندہ الہٰی بول اٹھے لو صاحب اب مجھ میں اور آپ میں حسب معاہدہ خود جدائی ہوگئی۔ کیونکہ بچے کے قتل پر آپ نے سوال کیا تھا اس وقت جب میں نے آپ کو اس غلطی پر متنبہ کیا تھا تو آپ نے خود ہی کہا تھا کہ اب اگر کسی بات کو پوچھوں تو مجھے اپنے ساتھ سے الگ کردینا اب سنو جن باتوں پر آپ نے تعجب سے سوال کیا اور برداشت نہ کرسکے ان کی اصلی حکمت آپ پر ظاہر کئے دیتا ہوں۔

آیت 77 - سورہ کہف: (فانطلقا حتى إذا أتيا أهل قرية استطعما أهلها فأبوا أن يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد أن ينقض فأقامه ۖ قال...) - اردو