مغرب الشمس وہ جگہ ہے جہاں دیکھنے والے کو سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مختلف مقامات میں سورج کی جائے غروب مختلف ہوتی ہے ، بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پہاڑ کے پیچھے غروب ہو رہا ہے ۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پانیوں میں غروب ہوتا ہے جس طرح بڑے بڑے سمندروں میں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج صحرائوں اور ریگستانوں میں غروب ہو رہا ہے ۔ مثلاً جہاں نظر کے سامنے صحرا اور ریگستان ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین بحر اوقیانوس کے ساحل تک پہنچ گیا تھا۔ اسے بحر ظلمات بھی کہتے ہیں اور اس وقت یہ گمان کیا جاتا تھا کہ خشکی اس سمندر کے ساحل پر ختم ہوجاتی ہے اس لئے اس نے دیکھا کہ سورج کالے پانیوں میں ڈوبنے لگا ہے۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ شخص جاتے جاتے ایک ایسے ساحل پر پہنچ گیا جہاں کوئی دریا آ کر سمندر میں گرتا تھا۔ ایسے مقامات پر گھاس اور کیچڑ اور سیاہ دلدل جمع ہوجاتی ہے۔ ایسے مقامات پر تالات بھی نظر آتے ہیں جو چشموں کے مانند ہوتے ہیں۔ یہاں سورج کی جائے غروب کے بارے میں قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں : وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (81 : 68) ” اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا۔ “ قرآن کی اس نشاندہی کے باوجود ہم اس جگہ کی نشاندہی نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن میں کسی جگہ کی تخصیص نہیں کی ، ایسی جگہ یا جگہیں کئی ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے علاوہ اور کوئی مرجع و ماخذ بھی ایسا نہیں ہے ، جس پر ہم اس مقام کے تعین کے سلسلے میں اعتماد کرسکتے ہوں۔ اس کے علاوہ کوئی شخص جو تفسیر بھی کرے گا اس میں غلطی کا امکان ہوگا کیونکہ وہ تفسیر کسی مسند ذریعہ علم کی طرف منسوب نہ ہوگی۔
بہرحال اس سیاہ چشمے یا سیاہ دلدل کے پاس ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔
ذوالقرنین کا تعارف۔ذوالقرنین ایک راہ لگ گئے زمین کی ایک سمت یعنی مغربی دانب کوچ کردیا۔ جو نشانات زمین پر تھے ان کے سہارے چل کھڑے ہوئے۔ جہاں تک مغربی رخ چل سکتے تھے چلتے رہے یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گے۔ یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے۔ ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے۔ حضرت ذوالقرنین پہنچ گئے۔ اور یہ جو بعض قصے مشہور ہیں کہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ سے بھی آپ تجاوز کر گئے اور سورج مدتوں ان کی پشت پر غروب ہوتا رہا یہ بےبنیاد باتیں ہیں اور عموما اہل کتاب کی خرافات ہیں اور ان میں سے بھی بددینوں کی گھڑنت ہیں اور محض دروغ بےمروغ ہیں۔ الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے۔ جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہوگا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔ حالانکہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور اس سے الگ کبھی نہیں ہوتا حمئۃ یا تو مشتق ہے حماۃ سے یعنی چکنی مٹی۔ آیت قرآنی (وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 28) 15۔ الحجر :28) میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔ یہی مطلب ابن عباس ؓ سے سن کر حضرت نافع نے سنا کہ حضرت کعب ؒ فرماتے تھے تم ہم سے زیادہ قرآن کے عالم ہو لیکن میں تو کتاب میں دیکھتا ہوں کہ وہ سیاہ رنگ مٹی میں غائب ہوجاتا تھا۔ ایک قرأت میں فی عین حامیۃ ہے یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیں خواہ کوئی سی قرأت پڑھے اور ان کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو۔ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر فرمایا اللہ کی بھڑکی آگ میں اگر اللہ کے حکم سے اس کی سوزش کم نہ ہوجاتی تو یہ تو زمین کی تمام چیزوں کو جھلس ڈالتا۔ اس کی صحت میں نظر ہے بلکہ مرفوع ہونے میں بھی بہت ممکن ہے کہ یہ عبداللہ بن عمرو کا اپنا کلام ہو اور ان دو تھیلوں کی کتابوں سے لیا گیا ہو جو انہیں یرموک سے ملے تھے واللہ اعلم۔ ابن حاتم میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے سورة کہف کی یہی آیت تلاوت فرمائی تو آپ نے (عین حامیۃ) پڑھا اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہم تو حمئۃ پڑھتے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا آپ کس طرح پڑھتے ہیں انہوں نے جواب دیا جس طرح آپ نے پڑھا۔ اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میرے گھر میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ حضرت معاویہ ؓ نے حضرت کعب ؒ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے ؟ حضرت کعب ؒ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یہ سب قصہ سن کرا بن حاضر نے کہا اگر میں اس وقت ہوتا تو آپ کی تائید میں تبع کے وہ دو شعر پڑھ دیتا جس میں اس نے ذو القرنین کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مشرق ومغرب تک پہنچا کیونکہ اللہ کے حکم نے اسے ہر قسم کے سامان مہیا فرمائے تھے اس نے دیکھا کہ سورج سیاہ مٹی جیسے کیچڑ میں غروب ہوتا نظر آتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے پوچھا اس شعر میں تین لفظ ہیں خلب، ثاط اور حرمد۔ ان کے کیا معنی ہیں ؟ مٹی، کیچڑا اور سیاہ۔ اسی وقت حضرت عبداللہ ؓ نے اپنے غلام سے یا کسی اور شخص سے فرمایا یہ جو کہتے ہیں لکھ لو۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ سے سورة کہف کی تلاوت حضرت کعب ؒ نے سنی اور جب آپ نے حمئۃ پڑھا تو کہا کہ واللہ جس طرح تورات میں ہے اسی طرح پڑھتے ہوئے میں نے آپ ہی کو سنا تورات میں بھی یہی ہے کہ وہ سیاہ رنگ کیچڑ میں ڈوبتا ہے وہیں ایک شہر تھا جو بہت بڑا تھا اس کے بارہ ہزار دروازے تھے اگر وہاں شور غل نہ ہو تو کیا عجب کہ ان لوگوں کو سورج کے غروب ہونے کی آواز تک آئے وہاں ایک بہت بڑی امت کو آپ نے بستا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں پر بھی انہیں غلبہ دیا اب ان کے اختیار میں تھا کہ یہ ان پر جبر وظلم کریں یا ان میں عدل وانصاف کریں۔ اس پر ذوالقرنین نے اپنے عدل و ایمان کا ثبوت دیا اور عرض کیا کہ جو اپنے کفر و شرک پر اڑا رہے گا اسے تو ہم سزا دیں گے قتل و غارت سے یا یہ کہ تانبے کے برتن کو گرم آگ کر کے اس میں ڈال دیں گے کہ وہیں اس کا مرنڈا ہوجائے یا یہ کہ سپاہیوں کے ہاتھوں انہیں بدترین سزائیں کرائیں گے واللہ اعلم۔ اور پھر جب وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت تر اور دردناک و عذاب کرے گا۔ اس سے قیامت کے دن کا بھی ثبوت ہوتا ہے۔ اور جو ایمان لائے ہماری توحید کی دعوت قبول کرلے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے دست برداری کرلے اسے اللہ اپنے ہاں بہترین بدلہ دے گا اور خودہم بھی اس کی عزت افزائی کریں گے اور بھلی بات کہیں گے۔