” تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لاکر دو “ چناچہ انہوں نے لوہے کے ٹکڑے جمع کئے اور دونوں قدرتی رکاوٹوں کے درمیان دیوار بنا دی اور جب یہ دیوار ان پہاڑوں کے برابر ہوگئی تو انہوں نے حکم دیا کہ اس لوہے کو گرم کرنے کے لئے اسے ہوا دو ، یہ لوہا اس قدر گرم ہوگیا کہ آگ نظر آنے لگی۔ پھر انہوں نے کہا اچھا اس پر میں اب پگھلا ہوا تانبا ڈلاوں گا۔ یہ پگھلا ہوا تانبا لوہے سے مل جائے گا اور یہ ل ہے کی دیوار اور مضبوط ہوجائے گی۔
دور جدید میں اس طریقے کو لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ کیونکہ لوہے کے اندر ایک خاص مقدار سے تانبا ملا نے سے لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی اللہ نے سب سے پہلے ذوالقرنین کو سکھائی تھی۔ اور پھر اسے اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے ایسے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقل تاریخ میں۔
غرض یو یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔ اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے اپنے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقبل تاریخ میں۔
غرض یوں یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔
حَتّٰى اِذَا سَاوٰى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ جب لوہے کے تختوں کو جوڑ کر انہوں نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی درّے میں دیوار کھڑی کردی تو : قَالَ انْفُخُوْااس نے بڑے پیمانے پر آگ جلا کر ان تختوں کو گرم کرنے کا حکم دیا۔حَتّٰى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًاجب لوہے کے وہ تختے گرم ہو کر سرخ ہوگئے تو :قَالَ اٰتُوْنِيْٓ اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًااور یوں ذوالقرنین نے لوہے کے تختوں اور پگھلے ہوئے تانبے کے ذریعے سے ایک انتہائی مضبوط دیوار بنا دی۔ اس دیوار کے آثار بحیرۂ کیسپین کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ دار یال اور دربند کے درمیان اب بھی موجود ہیں۔ یہ دیوار پچاس میل لمبی انتیس فٹ اونچی اور دس فٹ چوڑی تھی۔ آج سے سینکڑوں سال پہلے لوہے اور تانبے کی اتنی بڑی مصر کے اسوان ڈیم سے بھی بڑی جسے اَسَدّ الاعلٰی کہا جاتا ہے دیوار تعمیر کرنا یقیناً ایک بہت بڑا کارنامہ تھا۔