سورۃ المعارج: آیت 41 - على أن نبدل خيرا منهم... - اردو

آیت 41 کی تفسیر, سورۃ المعارج

عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ

اردو ترجمہ

کہ اِن کی جگہ اِن سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAala an nubaddila khayran minhum wama nahnu bimasbooqeena

آیت 41 کی تفسیر

فذرھم ............................ یوعدون

آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔

یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

آیت 41{ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْہُمْ لا } ”اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں“ یعنی ہم انہیں ختم کر کے ان کی جگہ کسی اور قوم کے افراد کو لے آئیں گے ‘ جو ان سے بہتر ہوں گے۔ جیسے قوم نوح کو ختم کر کے قوم عاد کو پیدا کیا گیا اور پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج بخشا گیا۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آخرت میں ہم انہیں جو جسم دیں گے وہ ان کے موجودہ جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس بارے میں سورة الواقعہ ‘ آیت 61 اور سورة الدھر ‘ آیت 28 میں تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ آخرت میں انسانوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہوں گے ‘ لیکن زیر مطالعہ آیت کے مذکورہ مفہوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کو آخرت میں دیے جانے والے جسم ان کے دنیا والے جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ جسم ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہی ہوں گے ‘ لیکن برداشت وغیرہ کے حوالے سے ان سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ مثلاً جہنم کی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ گرم اور شدید ہوگی جب انسانوں کو جلائے گی تو وہ جل کر راکھ نہیں بن جائیں گے ‘ بلکہ اس کی تپش کو برداشت کریں گے۔ اہل جہنم کے جسموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ ان کی کھالیں جل جانے کے بعد پھر سے اپنی اصل حالت پر آجائیں گی۔ بہرحال آخرت میں ان لوگوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ خصوصی طور پر آخرت کی سختیاں جھیلنے کے لیے بنائے جائیں گے۔ وہ سختیاں جو دنیا کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔ { وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ۔ } ”اور اس معاملے میں ہم ہارے ہوئے نہیں ہیں۔“ ہم ان کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں ‘ وہ ہماری گرفت سے نکل نہیں سکیں گے۔

آیت 41 - سورۃ المعارج: (على أن نبدل خيرا منهم وما نحن بمسبوقين...) - اردو