(آیت) ” نمبر : 105۔
یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (5 : 105)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی جمعیت کی فکر کرو ‘ اگر تم راہ ہدایت پر جمے رہے تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گی ۔ اس لئے کہ تم ایک علیحدہ جمعیت ہو اور دوسروں سے الگ ہو ۔ تم ایک دوسرے کے دوست ہمدرد اور باہم کفیل ہو۔ تمہاری دوسری امتوں کے ساتھ دوستی نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ دلی ربط ہے ۔
یہ ایک آیت ہی واضح کردیتی ہے کہ اس امت اور دوسری امم کے باہم ربط وتعلق کے اصول کیا ہوں گے ؟ اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ۔
امت مسلمہ اللہ کی پارٹی ہے اور امت کی علاوہ جو بھی امتیں ہیں وہ شیطان کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور دوسری امتوں کے درمیان دوستی اور باہم تضامن قائم نہیں ہو سکتا اس لئے امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان کوئی نظریاتی اشتراک نہیں ہے ۔ نہ مقاصد کا اشتراک ہے اور نہ وسائل ومقاصد میں ان کے درمیان یگانگت ہے ۔ نہ ذمہ داریوں اور نہ انکی جزاء میں اتحاد ہے ۔
امت مسلمہ کا فرض یہ ہے کہ وہ باہم متضامن اور کفیل ہوں اور اس کے افراد ایک دورے کے ہمدرد اور مخلص ہوں ۔ وہ اللہ کی ہدایت پر چلتے رہیں اس لئے کہ اللہ ہی نے تو انہیں ایک علیحدہ امت قرار دیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی اگرچہ ان کے اردگرد تمام لوگ گمراہی کو اختیار کرلیں ۔ لیکن یہ اصول اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امت ہدایت پر ہو اور قائم ہو ۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت مسلمہ فریضہ دعوت دین سے ہاتھ کھینچ لے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین اور ہدایت کی طرف بلائے کیونکہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ہی ہمارا دین ہے ۔ یہی ہمارا نظام ہے ۔ جب امت اس کرہ ارض پر کہیں اپنا نظام قائم کرلے تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دے ۔ اور پھر انہیں ہدایت دینے کی سعی کرے ۔ یہ فرض اس پر بہرحال رہتا ہے کہ وہ انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے ۔ عدل کی نگرانی کرے اور انسانوں کو مزید گمراہی کے راستے پر چلنے سے بچائے ۔ انہیں اس جاہلیت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے جس سے اللہ نے انہیں نکالا ۔
یہ بات کہ امت اپنے نفس ہی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ ہدایت پر ہو تو دوسروں کی گمراہی سے اس کو کوئی نہ ہوگا ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کرے تو اس سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا اس پر یہ فرض ہے کہ پہلے امت کی صفوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے اور اس کے بعد پورے کرہ ارض پر یہ فریضہ ادا کرے ۔ یہاں سب سے پہلا اور اہم معروف یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اللہ کی شریعت کو قانون تسلیم کیا جائے ۔ سب سے بڑا منکر جاہلیت اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی ہے ۔ جاہلیت کا حکم بھی طاغوت کا حکم ہے اور طاغوت کی حکومت ہونی ہی وہ ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی ہو جبکہ امت مسلمہ پہلے خود اپنے اوپر قوام ہے اور پھر پوری انسانیت پر قوام ہے ۔
اس آیت کا مفہوم و مراد وہ نہیں ہے جس طرح بعض قدیم مفسرین نے سمجھا ہے اور جس طرح بعض جدید لوگ سمجھتے ہیں یعنی یہ کہ ایک فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مکلف نہیں ہے بشرطیکہ وہ خود درست طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہو ۔ نہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ بھی اس کرہ ارض پر اللہ کی شریعت کے قیام کی مکلف نہیں ہے ۔ بشرطیکہ وہ بذات خود راہ راست پر ہو اگرچہ اس کے اردگرد لوگ گمراہ ہوں ۔
یہ آیت نہ ایک مومن کو اور نہ پوری امت کو دنیا میں پائے جانے والی برائی کے مقابلے سے بری الذمہ قرار دیتی ہے ۔ ضلالت اور نافرمانی کا مقابلہ فرض ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ کوئی اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرے اور اللہ کا حق قانون سازی غصب کرے ۔ یہ ایک ایسا منکر ہے جس سے نہ کسی فرد کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ امت کو اور جب تک یہ منکر قائم رہے کوئی امت فلاح نہیں پا سکتی ۔
اصحاب سنن نے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک بار تقریر فرمائی اور کہا : ” لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105)
اس آیت کا اطلاق تم ایسی صورت حال پر کرتے ہو جو اس کی مراد نہیں ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو ممکن ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کردے ۔ “
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت ہی وقت پر اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ۔ یہ غلط فہمی ان کے دور میں بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوگئی تھی ۔ آج ہم تو اس نصیحت کے بہت ہی محتاج ہیں ۔ کیونکہ آج منکر کو دور کرنے کے فرائض بہت ہی مشکل ہوگئے ہیں اس لئے ہم جیسے ضعیف لوگ اس آیت کے اس مفہوم کی طرف بہت جلد مائل ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح وہ جہاد کی مشقت اور مشکلات سے نجات پالیں گے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی مشکلات کو برداشت نہ کرنا پڑے گا ۔
ہر گز یہ مفہوم مراد نہیں ہو سکتا ‘ اس لئے کہ یہ فریضہ صرف جدوجہد اور جہاد ہی کے ذریعہ قائم ہو سکتا ہے اس لئے دین کے لئے کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو عوام کو اس دین کی طرف دعوت دیں ۔ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکلا کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں اور دنیا میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں ۔ اللہ کا حق حاکمیت جن لوگوں نے چھین لیا ہے ‘ ان سے وہ حق چھین لیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ کریں اور انہیں شریعت پر استوار کریں ۔ اس مقصد کے لئے جدوجہد لازمی ہے تاکہ گمراہ افراد تک نیکی اور روشنی پہنچانے کی جدوجہد کی جائے ۔ اگر کوئی قوت لوگوں کو راہ ہدایت پر آنے سے روک رہی ہو تو اس کا مقابلہ قوت سے کیا جائے ۔ اس قوت کے اثرات کو ختم کیا جائے جو دین اسلام کو معطل رکھتی ہے اور اسلامی نظام اور اسلامی شریعت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔
اسلام کی راہ میں آڑے آنے والی اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بعد اہل ایمان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور تب ہی گمراہ اپنی سزا خود بھگتیں گے جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ (آیت) ”إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اگر تم خود راہ راست پر ہو ‘ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرے رہے ہو ۔ “
اب ان احکام شرعیہ میں سے آخری حکم بیان کیا جاتا ہے ‘ جو اس سورة میں ذکر ہیں اور اس حکم کا تعلق اسلامی معاشرے کے بعض اجتماعی امور سے ہے ۔ یہ حکم اس بارے میں ہے کہ اگر کوئی سفر میں وصیت کر رہا ہوں تو اس پر دو منصف اور عادل قسم کے گواہ ٹھہرائے ‘ ایسے حالات میں کہ جب وہ اپنے معاشرے اور خاندان سے دور ہو ۔ یہ گواہی اس لئے قائم کی جاتی ہے تاکہ حق حقدار تک پہنچ سکے ۔
آیت 105 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْ ط اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس کا ایک غلط مطلب اور مفہوم دور صحابہ رض میں ہی بعض لوگوں نے نکال لیا تھا۔ وہ یہ کہ دعوت و تبلیغ کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے ‘ ہر ایک پر اپنی ذات کی ذمہ داری ہے ‘ کوئی کیا کرتا ہے اس سے کسی دوسرے کو کچھ غرض نہیں ہونی چاہیے۔ قرآن جو کہہ رہا ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی جانوں کی ہے۔ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ لہٰذا ہر کسی کو بس اپنا عمل درست رکھنا چاہیے ‘ کوئی دوسرا شخص اگر غلط کام کرتا ہے تو اسے خواہ مخواہ روکنے ٹوکنے ‘ اس کی ناراضگی مول لینے ‘ اَمر با لمعروف اور نہی عن المنکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں جب حضرت ابوبکر صدیق رض کے علم میں آئیں تو آپ رض نے باقاعدہ ایک خطبہ دیا کہ لوگو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس آیت کا مطلب غلط سمجھ رہے ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہاری ساری تبلیغ ‘ کوشش ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باوجود اگر کوئی شخص گمراہ رہتا ہے تو اس کا تم پر کوئی وبال نہیں۔ سورة البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَّلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی جہنمیوں کے بارے میں۔ یعنی ہم یہ نہیں پوچھیں گے کہ ہم نے آپ ﷺ کو بشیر و نذیر بنا کر بھیجا تھا اور پھر بھی یہ لوگ جہنّم میں کیوں چلے گئے ؟ لیکن جہاں تک دعوت و تبلیغ ‘ نصیحت و موعظت ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا تعلق ہے ‘ یہ تو فرائض میں سے ہیں۔ اس آیت کی رو سے یہ فرائض ساقط نہیں ہوتے۔ بلکہ اس کا درست مفہوم یہ ہے کہ تمہاری ساری کوشش کے باوجود اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو اب تمہاری ذمہ داری پوری ہوگئی۔ فرض کیجیے کہ کسی کا بچہ آوارہ ہوگیا ہے ‘ والد اپنی امکانی حد تک کوشش کیے جارہا ہے مگر بچہ راہ راست پر نہیں آ رہا ‘ تو ظاہر بات ہے کہ اگر اس نے بچے کی تربیت اور اصلاح میں کوئی کوتاہی نہیں چھوڑی تو اللہ کی طرف سے اس کی گمراہی کا وبال والد پر نہیں آئے گا۔ لیکن اپنا فرض ادا کرنا بہر حال لازم ہے۔
اپنی اصلاح آپ کرو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہوجائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ کرے، کیونکہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو سنو ! میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب بری باتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی عام عذاب آجائے، امیر المومنین کا یہ فرمان بھی ہے کہ جھوٹ سے بچو جھوٹ ایمان کی ضد (سننن اربعہ) حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرتے رہو یہاں تک کہ بخیلی کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع اور دنیا کی پسندیدگی اور ہر شخص کا اپنی رائے پر پھولنا عام نہ ہوجائے اس وقت تم صرف اپنی اصلاح میں مشغول ہوجاؤ اور عام لوگوں کو چھوڑ دو ، یاد رکھو تمہارے پیچھے صبر کے دن آ رہے ہیں اس وقت دین اسلام پر جما رہنے والا ایسا ہوگا جیسے کوئی انگارے کو مٹھی میں لئے ہوئے ہو اس وقت عمل کرنے والے کو مثل پچاس شخصوں کے عمل کا اجر ملے گا جو بھی اچھے اعمال کرے گا ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ مثل پچاس شخصوں کے ان میں سے یا ہم میں سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم میں سے (ترمذی) حضرت ابن مسعود سے بھی جب اس آیت کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ وقت نہیں آج تو تمہاری باتیں مان لی جاتی ہیں لیکن ہاں ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ نیک باتیں کہنے اور بھلائی کا حکم کرنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی اور اس کی بات قبول نہ کی جائے گی اس وقت تم صرف اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جانا، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے دو شخصوں میں کچھ جھگڑا ہوگیا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو ایک نے کہا میں اٹھتا ہوں اور انہیں نیکی کا حکم کرتا ہوں اور برائی سے روکتا ہوں تو دوسرے نے کہا مجھے کیا پڑی ؟ تو اپنی اصلاح میں لگا رہ، پھر یہی آیت تلاوت کی اسے سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا چپ رہ اس آیت کے عمل کا یہ وقت نہیں قرآن میں کئی طرح کی آیتیں ہیں بعض تو وہ ہیں جن کے مضامین گزر چکے بعض وہ ہیں جن کے واقعات آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہوگئے، بعض کے واقعات حضور کے بعد ہوئے بعض قیامت کے دن ہوں گے مثلاً جنت دوزخ وغیرہ، سنو جب تک تمہارے دل نہ پھٹیں تمہارا مقصود ایک ہی ہو تم میں پھوٹ نہ پڑی ہو تم میں لڑائی دنگے شروع نہ ہوئے ہوں تم اچھی باتوں کی ہدایت کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو۔ ہاں جب دلوں میں جدائی ہوجائے۔ آپ میں اختلاف پڑجائیں لڑائیاں شروع ہوجائیں اس وقت صرف اپنے تیئس پابند شریعت رکھنا کافی ہے اور وہی وقت ہے اس آیت کے عمل کا (ابن جریر) حضرت ابن عمر ؓ سے کہا گیا کہ ان دنوں تو آپ اگر اپنی زبان روک لیں تو اچھا ہو آپ کو کیا پڑی کوئی کچھ ہی کرے آپ نہ کسی کو روکیں نہ کچھ کہیں دیکھئے قرآن میں بھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنے تئیں سنبھا لو گمراہوں کی گمراہی کا وبال تم پر نہیں جبکہ تم خود راہ راست پر ہو۔ تو حضرت ابن عمر نے کہا یہ حکم میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے نہیں اس لئے کہحضور ﷺ نے فرمایا ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود لوگوں کو پہنچا دے۔ پس ہم موجود تھے اور تم غیر موجود تھے۔ یہ آیت تو ان لوگوں کے حق میں ہے جو بعد میں آئیں گے وہ لوگوں کو نیک باتیں کہیں گے لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی (ابن جریر) حضرت ابن عمر کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑے غصیل اور تیز زبان، کہنے لگے سنیئے جناب چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھے ہوئے جاننے بوجھنے والے مجہتد سمجھدار لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتلاتا ہے، اس نے کہا میں تم سے نہیں پوچھتا میں تو حضرت ابن عمر سے سوال کرتا ہوں اور پھر وہی بات دوہرا دی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا شاید تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے یہ کہہ دوں کہ جا انہی قتل کر ڈال نہیں میں کہتا ہوں جا انہیں نصیحت کر انہیں برائی سے روک نہ مانیں تو اپنی راہ لگ، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی، خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں حضرت ابن مازن مدینے میں آتے ہیں یہاں مسلمانوں کا ایک مجمع جمع تھا جس میں سے ایک شخص نے اسی آیت کی تلاوت کی تو اکثر لوگوں نے کہا اس کے عمل کا وقت ابھی تک نہیں آیا۔ حضرت جبیر بن نفیر کہتے ہیں میں ایک مجلس میں تھا جس میں بہت سے صحابہ کرام موجود تھے یہی ذکر ہو رہا تھا کہ اچھی باتوں کا حکم کرنا چاہیے اور بری باتوں سے روکنا چاہیے میں اس مجلس میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن جرات کر کے یہ آیت پڑھ دی اور کہا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہوگا ؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر مجھے جواب دیا کہ اس کا صحیح مطلب تمہیں معلوم نہیں اور جو مطلب تم لے رہے ہو بالکل غلط ہے مجھے بڑا افسوس ہوا، پھر وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے جب اٹھنے کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا تم ابھی بچے ہو بےموقعہ آیت پڑھ دیتے ہو اصلی مطلب تک نہیں پہنچتے بہت ممکن ہے کہ تم اس آیت کے زمانے کو پالو یہ حکم اس وقت ہے جب بخیلی کا دور دورہ ہو خواہش پرستی عام ہو ہر شخص اپنی سمجھ پر نازاں ہو اس وقت انسان خود نیکیوں اور بھلائیوں میں مشغول رہے گمراہوں کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ حضرت حسن نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اس پر بھی اللہ کا شکر ہے اگلے اور پچھلے مومنوں کے ساتھ منافق ضرور رہے جو ان کے اعمال سے بیزار ہی رہے، حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں جب تم نے اچھی بات کی نصیحت کردی اور بری بات سے روک دیا پھر بھی کسی نے برائیاں کیں نیکیاں چھوڑیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔ حضرت حذیفہ بھی یہی فرمائے ہیں حضرت کعب فرماتے ہیں اس کا وقت وہ ہے جب مسجد دمشق کا کلیسا ڈھا دیا جائے اور تعصب بڑھ جائے۔