(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔
یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی ۔ انہوں نے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا ‘ ان کے ساتھ لمبے چوڑے وعدے کئے اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف افواہ سازی کا کام کیا ‘ خفیہ رویشہ دوانیاں کیں ‘ مکاریوں سے کام لیتے رہے اور اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرتے رہے ۔ انہوں نے شکوک و شبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی ۔ اسلامی عقائد میں بھی اور اسلامی قیادت کے خلاف بھی اور کچھ عرصہ بعد یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ جماعت مسلمہ کے سامنے انکی پوری حقیقت کو کھول کر رکھ دیا جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس کے دشمن کس قماش کے لوگ ہیں ‘ ان کا مزاج کیا ہے ‘ ان کی تاریخ کیا ہے ‘ ان کے وسائل عدوات کیا ہیں اور اس معرکے کی نوعیت کیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ آنے والی پوری اسلامی تاریخ میں ملت اسلامیہ کہ دشمن رہیں گے بعینہ اسی طرح جس طرح یہ لوگ خود اپنی تاریخ میں ہمیشہ حق کے دشمن رہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تاریخ ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دی اور اچھی طرح کھول کر رکھ دی اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہ لوگ جو ذرائع کام میں لاتے تھے وہ بھی ان کے سامنے رکھ دیئے ۔
اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل اس دین کے حامل تھے جو حضرت محمد ﷺ کے آخری دین سے پہلے سچا دین تھا اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل ایک طویل تاریخ رکھنے والی ملت تھے ، ان کے عقائد میں انحراف واقعہ ہوگیا تھا اور انہوں نے اس عہد و پیمان کی بار بار خلاف ورزی کی تھی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ اس نظریاتی انحراف اور اس عہد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوگئے تھے اور ان تمام امور کا تقاضا یہ تھا کہ امت مسلمہ ان کو پوری تاریخ سے آگاہ ہو کیونکہ وہ اس سے قبل کی تمام رسالتوں کی امین اور وارث ہے اور ربانی نظریہ حیات اور صحیح عقائد کی نگہبان ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ امت مسلمہ کو ان تمام تاریخی انقلابات کا علم ہو اور اس کو معلوم ہو کہ کہاں کہاں ان لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور اس کے کیا نتائج نکلے ۔ بنی اسرائیل کی زندگی اور ان کے اخلاق پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے تاکہ اس تجربے کی وجہ سے تحریک اسلامی ان مقامات میں سنبھل کر چلے جہاں ٹھوکریں لگتی ہیں ‘ جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے اور جہاں سے انحراف شروع ہوتا ہے تاکہ ان تاریخی تجربات کے نتیجے میں وہ صحیح راہ پر گامزن رہے ۔
اور اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے تجربات کے کئی پہلو تھے ۔ یہ بہت طویل تجربات تھے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ جب اقوام وملل پر ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے تو وہ سنگدل ہوجاتی ہیں اور ان کی بعد کی نسلیں اصل راہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ کہ امت مسلمہ کی تاریخ قیام قیامت تک طویل رہے گی اور اس پر ایسے ادوار آئیں گے جن مین وہ بعینہ بنی اسرائیل جیسے حالات میں مبتلا ہوجائے گی ، اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ تاریخ اسلام میں پیدا ہونے والے قائدین اور تجدید واحیائے دین کرنے والے مجددیں کے سامنے بھی ایسے تجربات کے نمونے ہونے چاہئیں کہ اقوام وملل کے اندر کس طرح انحراف اور گمراہی سرایت کر جاتی ہے ۔ ان مجددین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب بیماری کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج کیسے ہوگا ‘ اس لئے کہ ہدایت اور صراط مستقیم سے دور چلے جانے میں وہ لوگ بہت ہی سنگدل ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر ایسا کریں ، غافل ‘ خام اور کم علم لوگ بہت جلد ہدایت قبول کرتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے ایک جدید دعوت آتی ہے جو انہیں پسند آجاتی ہے اور وہ اسے قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ اپنے اوپر سے گردو غبار جھاڑ لیتے ہیں ‘ کیونکہ یہ ان کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے ۔ چونکہ یہ جدید دعوت ان کی فطرت کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے اس لئے ان کی زندگی میں بہار آجاتی ہے ۔ لیکن جن لوگوں کے سامنے پہلے دعوت آجاتی ہے ‘ ان کے لئے دوبارہ وہ دعوت پرکشش نہیں ہوتی ۔ نہ ہو ان کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے نہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی عظیم دعوت ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے زیادہ محنت اور طویل اور صبر آزماجدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قصہ بنی اسرائیل کی تفصیلات کی حکمتوں میں سے یہ بہت اہم پہلو تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان قصص کو ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ دیا ہے اس لئے کہ امت مسلمہ عقائد کی وارث تھی ۔ اسے اب انسانیت کی قیادت کے فرائض سرانجام دینے تھے ۔ اس کے کئی اور پہلو بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہاں ان اشارات سے زیادہ دینا ممکن نہیں ہے ۔ لہذا اس سبق مین ہم اس مجلس کی طرف واپس آتے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلمات کے اندر ایسا اشارہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کی قوم اس جہاد کے سلسلے میں متردد ہے اور انہیں خطرہ تھا کہ وہ الٹے پاؤں پھرجائے گا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے مصر سے واپسی کے طویل سفر کے اندر اچھی طرح تجربہ کرلیا تھا کہ یہ لوگ بار بار نافرمانی کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مصر سے نکالا تھا اور ان کو اس ذلت اور بدبختی کی زندگی سے آزاد کیا تھا ‘ جس میں عرصہ غلامی مصر میں وہ مبتلا تھے ۔ یہ آزادی انہیں اللہ کے نام پر ملی تھی اور اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ نے ان کے لئے سمندر کو چیر دیا تھا اور اس میں فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا تھا ۔ اس کے بعد جب وہ ایک ایسی قوم سے ہو کر گزرے جو بتوں کی پوجا کرتی تھی تو انہوں نے فورا مطالبہ کردیا تھا کہ اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایسا ہی الہ بنا دو جیسا کہ ان لوگوں کا الہ ہے ۔ (آیت) ” یا موسیٰ اجعل لنا الھا کما لھم الھہ) اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقررہ میعاد پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرگوشی کے لئے کوہ طور پر چلے گئے تو پیچھے سے سامری نے ان زیورات سے جو آتے ہوئے ان کی عورتوں نے مصریوں کی عورتوں سے چرا لئے تھے ‘ ایک بچھڑا بنا دیا ۔ یہ بچھڑا ایسا ہی آواز کرتا تھا جس طرح ایک بچھڑا آواز کرتا ہے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے پر ٹوٹ پڑے اور کہا کہ یہ تو وہی خدا ہے جس کی ملاقات کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر چلے گئے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واضح معجزہ یہ تھا کہ انہوں نے ان کے لئے تپتے ہوئے صحرا کے اندر سے ایک پتھر سے 12 چشمے نکالے ۔ ان پر من اور سلوی جیسے طعام نازل ہوئے جو نہایت ہی لذیذ تھے لیکن انہوں نے ان لذیذ ومفید کھانوں کو چھوڑ کر ان کھانوں کا مطالبہ کردیا جو مصر میں وہ کھاتے تھے حالانکہ وہاں وہ بڑی ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ وہاں انہوں نے ساگ ‘ ترکاری ‘ گیہوں ‘ لہسن اور پیاز کا مطالبہ کیا اور اس کھانے پر صبر نہ کیا جو ان پر نازل ہو رہا تھا حالانکہ وہ عزت اخلاص اور اعلی مقاصد کے لئے کام کر رہے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ان اعلی مقاصد کی طرف کھینچ لا رہے تھے اور وہ پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو گائے کے معاملے میں بھی آزمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس میں پس وپیش اور بہانہ بازی کرتے اور مدت تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ۔ اور بالآخر مجبور ہو کر انہوں نے اس حکم پر عمل کیا لیکن وہ کرنے والے نہ تھے ۔
(آیت) ” فذبحوھا وما کادوا یفعلون) پھر انہوں نے ان کا تجربہ اس وقت بھی کیا تھا جب وہ کوہ طور سے واپس ہوئے اور ان کے پاس وہ تختیاں تھیں جن میں وہ میثاق اور عہد تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ انہوں نے اس عہد سے انکار کردیا اور عہد شکنی پر ثابت قدم رہے۔ ان انعامات اور ان کے جواب میں ان نافرمانیوں اور اس کے بعد اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی معافی کے باوجود پھر بھی انہوں نے اس عہد کو تسلیم نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کو ان کے سروں پر پہاڑ اس طرح لٹکانا پڑا جس طرح کہ بادل کا ایک ٹکڑا ہو اور وہ اس حالت میں آگیا کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ اب یہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے ۔ (آیت) ” وظنوا انہ واقع بھم “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طویل سفر آزادی میں ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ۔ آپ ان کو لے کر ارض مقدس کی دہلیز تک آپہنچے تھے جس کا وعدہ ان کے ساتھ خود اللہ نے کیا تھا اور اس زمین کے لئے ہی وہ مصر سے نکلے تھے ۔ وہ زمین جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عہد کیا تھا کہ یہ لوگ اس میں بادشاہت قائم کریں گے اور اللہ اس میں پھر ان پر انبیاء بھیجے گا تاکہ وہ اللہ کی نگرانی اور قیادت میں زندگی کے بہترین دن گزاریں ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ‘ اس لئے ان کا یہ حق تھا کہ وہ ایک بار پھر ان کی جانب سے بدعہدی سے ڈریں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری دعوت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے وہ تمام باتیں رکھ دیں جو انکی سابقہ تاریخ میں سے قابل ذکر تھیں اور ان کے سامنے وہ تمام بشارتیں رکھ دیں جو مستقبل میں ان کو حاصل ہونے والی تھیں ان کے سامنے وہ تمام امور رکھ دیئے جن سے ان کے حوصلے بڑھ سکتے تھے اور وہ سخت سے سخت ڈراوا بھی رکھ دیا :
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
اللہ کا انعام اور وہ وعدے پورے ہوگئے ۔ اللہ نے ان میں انبیاء بھیجے اور بادشاہ پیدا کئے۔ اس باب میں اللہ نے انہیں وہ کچھ دیا جو اقوام عالم میں کسی کو نہ دیا گیا تھا تاریخ کی اس یونٹ تک ‘ اور وہ ارض مقدس جسے فتح کرنے جا رہے تھے جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی ۔ اور یہ تحریر اللہ کی تھی ‘ لہذا اس کا پورا کیا جانا حق الیقین تھا ۔ اس سے پہلے اللہ نے ان کے ساتھ جو بھی وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کرکے پورے کردیئے گئے تھے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی طرف وہ بڑھ رہے تھے ۔ اس سے پیچھے ہٹنا انکے لئے دنیا وآخرت کا خسران تھا ۔۔۔۔۔ لیکن بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے ۔ بزدل سست اور پیچھے کی طرف پلٹنے والے اور بار بار وعدہ خلافی کرنے والے :
اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ واقعہ آ رہا ہے جب آپ علیہ السلام مصر سے اپنی قوم کو لے کر نکلے ‘ صحرائے سینا میں رہے ‘ آپ علیہ السلام کو کوہ طور پر بلایا گیا اور تورات دی گئی۔ اس کے بعد انھیں حکم ہوا کہ فلسطین میں داخل ہوجاؤ اور وہاں پر آباد مشرک اور کافر قوم جو فلسطی کہلاتے تھے کے ساتھ جنگ کرو اور انہیں وہاں سے نکالو ‘ کیونکہ یہ ارض مقدس تمہارے لیے اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ اس لیے کہ ان کے جد امجدّ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا تعلق اسّ خطہ سے تھا۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں منتقل ہوئے تو انہیں حکم ہوا کہ اب جاؤ ‘ اپنے اصل گھر ارضِ ‘ فلسطین کو دوبارہ حاصل کرو۔ لیکن جب جنگ کا موقع آیا تو پوری قوم نے کو را جواب دے دیا کہ ہم جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جو تلخی پیدا ہوئی اور طبیعت کے اندر بےزاری کی جو کیفیت پیدا ہوئی ‘ اس کی شدت یہاں نظر آتی ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رسول اپنی امت کے حق میں سراپا شفقت ہوتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نبی کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کی مانند ہے۔ جیسے اللہ رؤف بھی ہے ‘ وَدُود بھی ‘ لیکن ساتھ ہی وہ عزیزٌ ذُوانتقام بھی ہے اللہ کی یہ دونوں شانیں ایک ساتھ ہیں اسی طرح رسول کا معاملہ ہے کہ رسول شفیق اور رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہوتا ہے۔ نبی کے دل میں دین کی غیرت اپنے پیروکاروں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ لہٰذا قوم کے منفی ردّ عمل پر نبی کی بےزاری لازمی ہے۔یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو پے درپے معجزات کے ظہور نے تساہل پسند بنادیا تھا۔ پیاس لگی تو چٹان پر موسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی ضرب سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘ بھوک محسوس ہوئی تو منّ وسلویٰ نازل ہوگیا ‘ دھوپ نے ستایا توابر کا سائبان ساتھ ساتھ چل پڑا ‘ سمندر راستے میں آیا تو عصا کی ضرب سے راستہ بن گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس لاڈ پیار کی وجہ سے وہ بگڑ گئے ‘ آرام طلب ہوگئے ‘ مشکل کی ہر گھڑی میں انھیں معجزے کے ظہور کی عادت سی پڑگئی اور جنگ کے موقع پر دشمن کا سامنا کرنے سے انکار کردیا ‘ باوجودیکہ ان کے کم ‘ ازکم ایک لاکھ افراد تو ایسے تھے جو جنگ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی حکمت ہے کہ محمد رٌسول ‘ اللہ ﷺ کی پوری زندگی میں اس قسم کا کوئی معجزہ نظر نہیں آتا ‘ بلکہ یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں جو کچھ کرنا ہے اپنی جان دے کر ‘ ایثار و قربانی سے ‘ محنت و مشقت سے ‘ بھوک جھیل کر ‘ فاقے برداشت کر کے کرنا ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل کے برعکس رسول اللہ ﷺ کے ‘ ساتھیوں میں ایثار و قربانی ‘ جرأت و بہادری اور بلندہمتی نظر آتی ہے ‘ جس کی واضح مثال غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت مقداد رض کا یہ قول ہے : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا لَا نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ اِسْرَاءِیْلَ لِمُوْسٰی فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ وَلٰکِنِ امْضِ وَنَحْنُ مَعَکَ ‘ فَکَاَنَّہٗ سُرِّیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ 1 یارسول اللہ ! ہم آپ ﷺ سے بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جا کر قتال کرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم کہیں گے آپ ﷺ قدم بڑھایئے ‘ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں ! اس پر گویا رسول اللہ ﷺ کی پریشانی کا ازالہ ہوگیا۔آیت 0 2 وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ یعنی خود میں نبی ہوں ‘ میرے بھائی ہارون نبی ہیں۔ حضرت یوسف ‘ حضرت یعقوب ‘ حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب نبی تھے۔وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًاق اگرچہ اس وقت تک ان کی بادشاہت تو قائم نہیں ہوئی تھی مگر ہوسکتا ہے کہ یہ پیشین گوئی ہو کہ آئندہ تمہیں اللہ تعالیٰ زمین کی سلطنت اور خلافت عطا کرنے والا ہے۔ چناچہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی طرف اشارہ ہے ‘ وہ اگرچہ مصر کے بادشاہ تو نہیں تھے لیکن بادشاہوں کے بھی مخدوم و ممدوح تھے اور بنی اسرائیل کو مصر میں پیرزادوں کا سا عزت و احترام حاصل ہوگیا تھا۔
تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔