(آیت) ” نمبر 67 تا 68۔
رسول اللہ ﷺ کے لئے قطعی حکم یہ ہے کہ آپ تمام پیغام کی جو اللہ نے نازل کیا ہے پوری پوری تبلیغ کریں ‘ دنیا کے اندر پائے جانے والے حالات میں سے کسی حال کو بھی کوئی اہمیت نہ دیں اور اپنی دعوت کو بالکل کھل کر صاف بیان کردیں ۔ یہ آپ کا فریضہ رسالت ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اپنے فرائض پوری طرح سرانجام نہ دیئے رہی بات کہ دشمن تمہارا کچھ بگاڑ لیں گے تو یقین رکھو کہ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا اور جس کو بچانے کا ذمہ اللہ لے لے تو لوگ اللہ کے مقابلے میں حیثیت کیا رکھتے ہیں کہ اس کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے ۔
سچائی کے حاملین کو شف شف کرنا مناسب نہیں ہے ۔ انہیں چاہئے کہ صاف صاف اور دو ٹوک بات کریں ۔ رہے اہل باطل اور مخالفین حق تو وہ جو چاہیں کہیں جو چاہیں کرلیں ۔ اس لئے کہ سچوں کو لوگوں کی خواہشات کا لحاظ رکھتے ہوئے نرم بات نہیں کرنا چاہئے اور نہ اس سلسلے میں لوگوں کی خواہش کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔ سچی بات کو نہایت ہی قوت اور زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کے اندر اتر جائے ۔ حاملین حق جب اپنی بات زور دار زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کرنے کی ذرا سی استعداد بھی ہوتی ہے تو وہ بات ان تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور اگر سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں پیش کیا جائے تو اس کے لئے وہ دل نرم نہیں ہوتے جن میں قبول حق کی استعداد نہیں ہوتی اور یہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ داعی ان کے ساتھ نرمی کرے اور کچھ مطالبات واپس لے لے تب وہ دعوت کو قبول کریں گے ۔ وہ اپنی طرف سے شرائط عائد کرتے ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الکفرین “۔ (5 : 67) ” اللہ کافروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا نہیں ہے ۔ “ لہذا آپ سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کریں ‘ جامع اور مانع الفاظ میں بیان کریں ۔ رہی یہ بات کہ کون مانتا ہے اور کون مانتا ‘ یہ موقوف اس امر پر ہے کہ سننے والے کے اندر قبول حق کی استعداد ہے یا نہیں یا یہ کہ اس کا دل اس سچائی کے لئے کھلا ہے یا نہیں ۔ مداہنت اور لحاظ وملاحظہ کرنے اور سچ بات پوری طرح نہ کہنے پر ہدایت کا دارومدار نہیں ہے نہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہے ۔
نظریاتی اعتبار سے فیصلہ کن بات کرنے کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ انسانی نہایت خشک اور سخت لہجے میں بات کرے ۔ اللہ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ آپ نہایت ہی حکمت اور اچھے انداز میں نصیحت فرمائیں ۔ اس لئے قرآنی ہدایت میں کوئی تعارض نہیں ہے یعنی کلمہ حکمت اور موعظہ حسنہ اور دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ایک تو نفس بات ہے یہ کسی بات کے عناصر ترکیبی ہیں اور دوسرا وہ انداز ہے جس انداز میں اس بات کو لوگوں تک پہنچانا مطلوب ہے ۔ جہاں تک نفس بات اور پیغام حق کا تعلق ہے وہ بےکم وکاست پہنچایا جائے ۔ پوری پوری بات پہنچائی جائے اور اس میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہ کی جائے ۔ اس لئے کہ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسی حقیقت ہوتی ہے جس کے اجزاء نہیں ہو سکتے ۔ ہاں بات کے پہنچانے کے انداز میں نرمی ہو سکتی ہے ۔ ابتدائے بعثت سے حضور ﷺ نہایت ہی حکمت سے وعظ فرماتے تھے اور بات نہایت ہی اچھے انداز سے کرتے تھے لیکن بات دو ٹوک ہوتی تھی ۔ آپ اللہ کے حکم سے اس طرح فرمایا کرتے تھے ”۔ اے لوگو ! جنہوں نے کفر کیا ہے ‘ میں ان بتوں کی بندگی نہیں کرتا جن کی بندگی تم کرتے ہو۔ “ آپ صاف کہتے کہ تم کافر ہو ‘ اور بات بھی صاف کہتے کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی نہیں کرتا اور نہ ہی آپ نے وہ مصالحتی کوششیں منظور کیں جن کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو ‘ نہ آپ نے کبھی مداہنت کی حالانکہ وہ تمنائیں کرتے تھے کہ آپ ایسا کریں ۔ آپ نے کبھی کفار سے یہ نہ کہا کہ تم جس نظام پر عامل ہو ‘ میں تو اس میں چند معمولی تبدیلیاں لاتا ہوں بلکہ آپ یہ فرماتے کہ تم لوگ سراسر باطل پر ہو اور یہ کہ وہ کامل سچائی لے کر آئے ہیں۔ آپ سچائی کی بات نہایت ہی زور سے کرتے ‘ پوری پوری کرتے لیکن ایسے انداز میں کرتے کہ اس میں کرختگی نہ ہوتی اور نہ سخت مزاجی ہوتی ۔ قول لین ہوتا ۔ یہاں اس سورة میں آپ کو حکم یہ دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ (67)
” اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا ‘ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ، یقین رکھو کہ وہ کافروں کو ہدایت کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا ۔
یہاں اس آیت سے پہلے اور بعد میں آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کو واضح الفاظ میں اور دوٹوک انداز میں بتایاجائے کہ وہ جس موقف پر جمے ہوئے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ۔ اور یہ بتا دیا جائے کہ ان کا موقف حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتا ۔ نہ ان کا دین ‘ دین ہے نہ ان کا عقیدہ صحیح عقیدہ اور نہ ان کا ایمان مقبول ہے ۔ اس لئے کہ ان کی یہ چیزیں خود تورات اور انجیل کے مطابق نہیں ہیں ۔ نہ ربانی ہدایات کے مطابق ہیں ۔ اس لئے ان کے یہ دعاوی سراسر باطل ہیں کہ وہ اہل کتاب ہیں یا یہ کہ وہ کوئی نظریہ رکھتے ہیں یا یہ کہ وہ دیندار ہیں اور دین سماوی کے پیروکار ہیں ۔
(آیت) ” قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْْء ٍ حَتَّیَ تُقِیْمُواْ التَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ (5 : 68)
” صاف کہہ دو کہ ” اے اہل کتاب ‘ تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔
جس وقت حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل کتاب کے سامنے ان کے دین ‘ ان کے عقیدے اور ان کے ایمان کے بارے میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کریں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی ہیں ‘ تو اس وقت وہ اپنی کتابیں باقاعدہ پڑھتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو یہودی اور نصرانی کہتے تھے ۔ ان کا دعوے یہ تھا کہ وہ اہل ایمان ہیں لیکن رسول اللہ خدا ﷺ کو ان کے موقف پر جو فیصلہ کن تبصرہ کرنے کو کہا گیا اس میں یہ اعلان مضمر تھا کہ اپنے بارے میں ان کے تمام دعاوی غلط ہیں ‘ اس لئے کہ ” دین “ صرف الفاظ کا نام نہیں ہے جسے کوئی زبان سے ادا کر دے ۔ نہ دین کتابوں کا نام ہے جنہیں ترتیل اور خوش الحانی سے پڑھ لیا جائے ۔ نہ دین کوئی صفت ہے جو موروثی طور پر مل جاتی ہو۔ بلکہ دین تو ایک نظام زندگی ہوتا ہے اور دین کے اجزاء میں وہ عقیدہ اور نظریہ بھی شامل ہوتا ہے جو دلوں کے اندر ہوتا ہے ‘ وہ عبادات بھی ہوتی ہیں جو مراسم عبودیت کی شکل میں ادا ہوتی ہیں ۔ اس میں وہ نظام بندگی بھی ہوتا ہے جس پر ایک مکمل نظام زندگی استوار ہوتا ہے ۔ جب تک وہ اس پورے نظام تورات کو قائم نہیں کرتے تو ان کی حیثیت یہ ہوگی کہ وہ سرے سے دین پر نہیں ہیں ۔ نہ اہل کتاب میں اور نہ اہل دین و عقیدہ میں اور یہی اعلان رسول اللہ ﷺ کو کرنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے کہہ دیں کہ وہ اپنے لئے ان چیزوں میں سے کسی شے کو (ClAirn) نہ کریں ۔
اقامت تورات کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل کریں اس لئے کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان لائیں اور جو رسول بھی آیا ‘ اس کی نصرت کریں گے اور مدد دین گے ۔ ان کے ہاں تورات اور انجیل میں حضرت محمد ﷺ کی صفت واضح طور پر موجود ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کے اندر اس کا تذکرہ فرمایا ۔ نیز ان کو حکم بھی دیا گیا تھا کہ وہ تورات ‘ انجیل اور اس کلام پہ ایمان لائیں جو اللہ نے نازل کیا ہے (چاہے اس ماانزل اللہ سے مراد قرآن ہو یا دوسری کتب ہوں مثلا زبور داؤد وغیرہ) ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ تورات اور انجیل کو قائم نہیں کرتے ۔ اب ان کو اس نئے دین میں داخل ہوجانا چاہیے اس لئے کہ یہ دین تورات وانجیل کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے اندر تورات وانجیل کی اصل تعلیمات محفوظ کردی گئی ہیں ۔ اگر یہ دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے تو ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو حضور ﷺ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایسا اعلان کردیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کا حق ادا نہیں کیا اور یہ ایک شدید تہدید ہے جو حضور اکرم ﷺ کو دی گئی ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ جب اہل کتاب کی دینی حیثیت کو ان فیصلہ کن اور دو ٹوک الفاظ میں چیلنج کیا جائے گا تو وہ کفر و طغیان میں مزید آگے بڑھیں گے ۔ وہ مزید عناد میں مبتلا ہوں گے اور کج بحثیاں کریں گے ۔ لیکن ان خطرات کے باوجود حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ بس وہ یہ اعلان کر ہی دیں اور اس اعلان کے نتیجے میں ہونے والے کفر وسرکشی ‘ گمراہی اور بغاوت کی کوئی پرواہ نہ کریں اور مایوس نہ ہوں کیونکہ حکمت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ حق کا اعلان ببانگ دہل کیا جائے اور اس پر جو نتائج مرتب ہونا ہیں وہ ہوجائیں ۔ جو شخص راہ ہدایت کو اختیار کرلیتا ہے وہ کھل کر راہ ہدایت پر آجائے اور جو راہ ضلالت کا انتخاب کرتا ہے وہ کھل کر راہ ضلالت اختیار کرے ۔
آیت 67 یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ بہت سخت آیت ہے۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اگر وحی میں کہیں رسول اللہ ﷺ پر تنقید نازل ہوئی ہے تو وہ بھی قرآن میں جوں کی توں موجود ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ ایسی چیزوں کو چھپالیا گیا ہو۔ تیسویں پارے میں سورة عبس کی ابتدائی آیات عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ۔ اَنْ جَآءَ ہُ الْاَعْمٰی۔ بھی ویسے ہی موجود ہیں جیسے نازل ہوئی تھیں۔ سورة آل عمران میں بھی ہم پڑھ کر آئے ہیں کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَیْءٌ۔۔ آیت 128۔ اس طرح کی آیات اپنی جگہ پر من وعن موجود ہیں ‘ اور یہ قرآن کے محفوظ من اللہ ہونے پر حجت ہیں۔ آیت زیر نظر میں تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ وحئ الٰہی میں سے کوئی چیز کسی وجہ سے پہنچنے سے رہ نہ جائے۔ لوگوں کے خوف سے یا اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے بالفرض اگر ایسا ہوا تو گویا آپ ﷺ فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کا ثبوت دیں گے۔ اَلْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی ‘ وَالرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّل ! وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط آپ کو لوگوں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو چھپایا نہیں اپنے نبی ﷺ کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ حضور ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے " حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپالیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی "۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے " اگر حضور ﷺ اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔ آیت (وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ) 33۔ الاحزاب :37)۔ یعنی تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے "۔ ابن عباس سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں حضور ﷺ نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا قسم اللہ کی ہمیں حضور ﷺ نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا (ابن ابی حاتم) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ " حضرت علی سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے ؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے "۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت زہری کا فرمان ہے کہ اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔ حضور ﷺ نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا "۔ صحیح مسلم میں ہے کہ " آپ نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ نے تبلیغ کردی اور حق رسالت ادا کردیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، آپ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ " مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کونسا دن ہے ؟ سب نے کہا حرمت والا، پوچھا یہ کونسا شہر ہے، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے۔ پھر بار بار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا "۔ ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ کے رب کی طرف آپ کی وصیت تھی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپالی تو حق رسالت ادا نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں تو دوسرا جملہ اترا کہ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ پھر فرمایا تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بےخطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس آیت سے پہلے حضور ﷺ چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک رات کو حضور بیدار تھے انہیں نیند نہیں آرہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آج کیا بات ہے ؟ فرمایا کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی آج پہرہ دیتا، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ نے فرمایا کون ہے ؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا کیسے آئے ؟ جواب دیا اس لئے کہ رات بھر حضور ﷺ کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد حضور ﷺ باآرام سو گئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی (بخاری و مسلم) ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سنہ002ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا، " جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی "۔ ایک روایت میں ہے کہ ابو طالب آپ کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا بس چچا ! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آگیا ہوں۔ لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے، اس میں شک نہیں کہ مکہ میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول ﷺ کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتداء رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش حضور ﷺ کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہوجاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں حضور ﷺ کی شرعی محبت پیدا کردی اور آپ انہی کے ہاں چلے گئے۔ اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن بار بار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورة معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔ ادھر ہزاروں جتن کر کے بکری کے شانے میں زہر ملا کر حضور ﷺ کی دعوت کر کے آپ کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ " ایک سفر میں آپ ایک درخت تلے، جو صحابہ اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آ نکلا، آپ کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے ؟ آپ نے فرمایا اللہ مجھے بچائے گا، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے "۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے بنو نجار سے غزوہ کیا " ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد ﷺ کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے ؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کر دوں گا۔ یہ آپ کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ نے فرمایا تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ " صحابہ کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، آنحضرت ﷺ کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ اسی کیلئے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ اسی طرح ایسے درخت تلے سو گئے اور آپ کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ کے سامنے ڈال دی۔ " اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ (ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) 5۔ المائدہ :67) مسند میں ہے کہ " حضور ﷺ نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لئے بہتر تھا۔ ایک شخص کو صحابہ پکڑ کر آپ کے پاس لائے اور کہا یہ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ نے فرمایا گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا "۔ پھر فرماتا ہے تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔