(آیت) ” نمبر 72 تا 76۔
اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔
یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔
نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس نصرانی کی کتاب ” سوسنہ سلیمان “ میں ہے کہ عیسائیوں کا وہ عقیدہ جس میں کسی کنیسہ کو اختلاف نہیں ہے اور جسے نیقیا کی مجلس نے بطور اصل عقیدہ طے کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ الہ صرف ایک ہے ‘ اب باپ الہ ہے جو سب پر کنڑول کرنے والے ہے ۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ جو چیز نظرآئے یا نہ آئے اس کا پیدا کرنے والا ہے ۔ پھر ایک رب واحد یسوع پر ایمان لانا ہے جو اکلوتا بیٹا ہے اور ایک باپ سے ہے اور یہ زمانوں سے پہلے نور سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ بھی الہ ہے ‘ الہ حق سے ہے ‘ مولود ہے ‘ مولود ہے اور غیر مخلوق ہے ‘ اپنے جوہر میں باپ کے برابر ہے ‘ جس سے تمام مخلوقات پیدا ہوئی اور جس کی وجہ سے ہم انسان پیدا ہوئے اور یہ باپ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے آسمان سے نازل ہوا۔ روح القدس کو اس کا درجہ ملا ۔ اور بیلاطس کے عہد میں کنواری مریم سے اس کا تولد ہوا ۔ انسان کی شکل میں آیا ۔ عہد بیلاطس میں سولی پر چڑھا ۔ دیکھ پہنچا ‘ قبر میں دفن ہوا اور مردوں سے تیسرے دن اٹھ کھڑا ہوا جیسا کہ کتابوں میں ہے ۔ آسمان کی طرف اٹھا اور رب کے دائیں طرف بیٹھا اور عنقریب اس کا نزول عزت ہوگا اور تمام زندوں کو دین میں داخل کرے گا ۔ اس کی بات ختم نہ ہوگی ۔ روح القدس اور باپ سے نکلنے والے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے جو خدا کے ساتھ موجود ہے اور ان دونوں کے لئے سجدہ ہوتا ہے اور جو انبیاء کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ “۔
ڈاکٹر پوسٹ اپنی کتاب تاریخ کنیسہ میں کہتے ہیں کہ ذات باری تین اقانیم سے عبارت ہے جو مساوی ہیں ۔ اللہ باپ ‘ اللہ بیٹا ‘ اللہ روح القدس ۔ بیٹے کے ذریعے لوگ باپ سے منسوب ہیں کہ وہ مخلوق ہیں ‘ بیٹے نے قربانی دی اور روح القدس پاک ہے ۔ “
اب یہ تصور کس قدر دشوار ہے کہ تین ایک بھی ہیں اور توحید اور تثلیث کا ایک ساتھ تصور کس قدر مشکل ہے ۔ نصاری کے لاہوتی مصنفین نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس عقیدے کے عقلی پہلو پر غور وخوض کو ملتوی رکھا جائے ‘ اس لئے کہ عقل تو اسے سنتے ہی مسترد کردیتی ہے ۔ ان میں سے ایک پادری بوطر اپنے رسالہ ” اصول و فروع “ میں لکھتے ہیں ” ہم نے اپنی عقل کی طاقت کے مطابق اسے یوں سمجھا ہے اور آئندہ اسے ہم واضح طور پر سمجھ سکیں گے جب اللہ آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے پردہ اٹھا لے گا ۔ فی الحال اس قدر کافی ہے ۔ “
اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام معقولات کفر ہیں ۔ اس لئے کہ ان تمام میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانا گیا ہے نیز تینوں میں سے ایک کہنا بھی کفر ہے ۔ لہذا اللہ کی بات کے بات کے بعد کوئی اور بات نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان واضح ہے ۔
(آیت) ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (72)
” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ “ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اسی طرح انہیں صاف صاف ڈرایا تھا مگر وہ باز نہ آئے ۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وہ اسی غلطی میں پڑگئے تھے جس سے آپ نے انہیں متنبہ کردیا تھا ۔ حالانکہ آپ ﷺ نے صاف صاف بتایا تھا کہ اگر انہوں نے عقیدہ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا تو وہ جنت سے محروم ہو کر جہنم کی آگ کے مستحق ہوجائیں گے ۔ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کو بھلا دیا ” اے بنی اسرائیل صرف اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ “ اس قول کے مطابق آپ نے انہیں کہا تھا کہ اللہ کے سامنے میں اور تم برابر کے بندے ہیں اور اللہ جو سب کا رب ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہاں قرآن کریم ان کے تمام کفریہ معقولات کا ذکر کرتا ہے ۔
آیت 72 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَا لُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَم ط یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے اسی سورة کی آیت 17 میں آچکی ہے ‘ یعنی اللہ ہی نے مسیح علیہ السلام کی شخصیت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰٹہ النَّارُط وَمَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ اب عیسائیوں کے شرک کی ایک دوسری شکل کا ذکر ہو رہا ہے۔ ان کا ایک عقیدہ تو God incarnate کا تھا۔ یہ ان میں سے ایک فرقے Jacobites کا عقیدہ تھا کہ خود اللہ تعالیٰ ہی نے عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں انسانی روپ دھار لیا ہے۔ اوپر اسی عقیدے کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن عیسائیوں کے ہاں ایک عقیدہ تثلیث کا بھی ہے ‘ اور اس عقیدہ کی بھی ان کے ہاں دو شکلیں ہیں۔ ابتدا میں جو تثلیث تھی اس میں اللہ ‘ حضرت مریم اور حضرت مسیح شامل تھے۔ یعنی God the Father , God the Mother and God the Son. دراصل یہ تثلیث مصر میں فراعنہ کے زمانے سے چلی آرہی تھی۔ اسی کے اندر انہوں نے عیسائیت کو ڈھال دیا ‘ تاکہ مصر کے لوگ آسانی سے عیسائیت قبول کرلیں۔ اس کے بعد حضرت مریم کو اس تثلیث میں سے نکال دیا گیا اور Holy Ghost یا Holy Spirit روح القدس کو ان کی جگہ شامل کرلیا گیا اور اس طرح "God the father , God the Son and God the Holy Ghost" پر مشتمل تثلیث وجود میں آئی۔
خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟