اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَٱحْذَرُوا۟ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ
لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا۟ إِذَا مَا ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّأَحْسَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَيَبْلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَىْءٍ مِّنَ ٱلصَّيْدِ تَنَالُهُۥٓ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّٰرَةٌ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ
آیت 90 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ شراب اور جوئے کے بارے میں تو پہلے بھی حکم آچکا ہے ‘ لیکن انصاب اور ازلام کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اَنصاب سے مرادبتوں کے استھان ہیں اور ازلام جوئے ہی کی ایک قسم تھی جس میں اہل عرب تیروں کے ذریعے پانسے ڈالتے تھے ‘ قرعہ اندازی کرتے تھے۔ ان تمام کاموں کو رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ قرار دے دیا گیا۔ ُ
آیت 91 اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ یہ بہت اہم بات ہے ‘ کیونکہ شراب کے نشے میں انسان اپنا ہوش اور شعور کھو بیٹھتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو کچھ خبر نہیں رہتی کہ وہ منہ سے کیا بکواس کر رہا ہے اور اس کے اعضاء وجوارح سے کیا افعال سرزد ہو رہے ہیں ‘ لہٰذا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایسی حالت میں کسی بات یا کسی حرکت سے کیا کیا گل کھلیں گے ‘ کیسے کیسے جھگڑے اور فسادات جنم لیں گے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ حکومتی اور ریاستی سطح کے بڑے بڑے راز شراب کے نشے میں چرالیے جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان چیزوں سے بچانا چاہتا ہے ‘ جبکہ شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے مابین عداوت اور بغض پیدا کرے۔ اسی طرح جوئے سے بھی بغض و عداوت کی کو نپلیں پھوٹتی ہیں۔ مثلاً ایک آدمی جوئے میں ہار جاتا ہے ‘ پھر پے در پے ہارتا چلا جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ پھٹ پڑتا ہے اور غصّے میں آگ بگولا ہو کر آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ اسے نظر آ رہا ہے کہ میرا جو حریف مجھ سے جیت رہا ہے وہ کسی محنت کی وجہ سے نہیں جیت رہا۔ کسی نے محنت اور کوشش سے کچھ کمایا ہو تو اس سے دوسرے کو جلن محسوس نہیں ہوتی ‘ لیکن جوئے میں بےمحنت کی کمائی ہوتی ہے جسے مخالف فریق برداشت نہیں کرسکتا ‘ اور اس طرح انسانی تعلقات میں کئی منفی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِج ۔اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنے والا معاملہ بھی شراب کا تو بالکل واضح ہے ‘ لیکن جوئے میں بھی یونہی ہوتا ہے کہ آدمی ایک بار اس میں لگ جائے تو پھر وہاں سے نکلنامشکل ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ تاش اور شطر نج وغیرہ بھی ایسے کھیل ہیں کہ ان میں مشغول ہو کر انسان ذکر اور نماز جیسی چیزوں سے بالکل غافل ہوجاتا ہے۔ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ یہ انداز بڑا سخت ہے اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ شراب اور جوئے کے بارے میں ایک واضح ہدایت قبل ازیں آچکی تھی : فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِز وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِہِمَا ط البقرۃ : 219 ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں ‘ اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں ‘ البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے۔ تو اسی وقت تمہیں سمجھ لینا چاہیے تھا اور باز آجانا چاہیے تھا۔ اس پہلے حکم میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ‘ مشیّت اور شریعت کا رخ تو واضح ہوگیا تھا۔ پھر اگلا قدم اٹھایا گیا اور حکم دیا گیا : جب تم لوگ شراب کے نشے میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ۔۔ النساء : 43۔ اس سے تو پورے طور سے واضح ہوجانا چاہیے تھا کہ دین کا اہم ترین ستون نماز ہے : اَلصَّلٰوۃُ عِمَاد الدِّیْنِ 1 اور یہ شراب نماز سے روک رہی ہے ‘ تو تمہیں یہ چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ بہر حال اب آخری بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگئی ہے ‘ تو اسے سن کر کیا اب بھی باز نہیں آؤ گے ؟
آیت 92 وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ rّیہ اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کا حکم پہنچانا رسول ﷺ کے ذمے تھا ‘ تو رسول ﷺ نے پہنچا کر اپنی ذمہ داری ادا کردی ‘ اب معاملہ اللہ کا اور تمہارا ہوگا۔ اللہ تم سے نمٹ لے گا ‘ تم سے حساب لے لے گا۔اب جو اگلی آیت آرہی ہے یہ بھی قرآن مجید کے فلسفہ اور حکمت کے ضمن میں بہت بنیادی آیت ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب شراب کے بارے میں اتنا سخت انداز آیا کہ شراب اور جوا گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے باز آتے ہو یا نہیں ؟ تو بہت سے مسلمانوں کو تشویش لاحق ہوگئی کہ ہم جو اتنے عرصے تک شراب پیتے رہے تو یہ گندگی تو ہماری ہڈیوں میں بیٹھ گئی ہوگی۔ آج سائنس کی زبان میں جیسے کوئی شخص کہے کہ میرے جسم کا تو کوئی ایک خلیہ cell بھی ایسا نہیں ہوگا جس میں شراب کے اثرات نہ پہنچے ہوں۔ تو اب ہم کیسے پاک ہوں گے ؟ اب کس طریقے سے یہ گندگی ہمارے جسموں سے دھلے گی ؟ ان کی یہ تشویش بجا تھی۔ جیسے تحویل قبلہ کے وقت تشویش پیدا ہوگئی تھی کہ اگر اصل قبلہ بیت اللہ تھا اور ہم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نمازیں پڑھتے رہے تو وہ نمازیں تو ضائع ہوگئیں ‘ اور نماز ہی تو ایمان ہے۔ تو اس پر مؤمنین کی تسلی کے لیے فرمایا گیا تھا : وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط اللہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ ایسے ہی یہاں ان کی دل جوئی کے لیے فرمایا :
آیت 93 لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا کسی شے کی حرمت کے قطعی حکم آنے سے پہلے جو کچھ کھایا پیا گیا ‘ اس کا کوئی گناہ ان پر نہیں رہے گا۔ یہ کوئی ہڈیوں میں بیٹھ جانے والی شے نہیں ہے ‘ یہ تو شرعی اور اخلاقی قانون Moral Law کا معاملہ ہے ‘ طبعی قانون Physical Law کا نہیں ہے۔ طبعی Physical طور پر تو کچھ چیزوں کے اثرات واقعی دائمی ہوجاتے ہیں ‘ لیکن Moral Law کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ گناہ تو احد پہاڑ کے برابر بھی ہوں تو سچی توبہ سے بالکل صاف ہوجاتے ہیں۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : اَلتَّاءِبُ مِنَ ا لذَّنْبِ کَمَنْ لاَ ذَنْبَ لَہٗ 1 گناہ سے حقیقی توبہ کرنے والا بالکل ایسے ہے جیسے اس نے کبھی وہ گناہ کیا ہی نہیں تھا۔ صدق دل سے توبہ کی جائے تو نامۂ اعمال بالکل دھل جاتا ہے۔ لہٰذا ایسی کسی تشویش کو بالکل اپنے قریب مت آنے دو۔ اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یہ دراصل تین درجے ہیں۔ پہلا درجہ ’ اسلام ‘ ہے۔ یعنی اللہ کو مان لیا ‘ رسول ﷺ کو مان لیا اور اس کے احکام پر چل پڑے۔ اس سے اوپر کا درجہ ’ ایمان ‘ ہے ‘ یعنی دل کا کامل یقین ‘ جو ایمان کے دل میں اتر جانے سے حاصل ہوتا ہے۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ الحجرات : 7 کے مصداق ایمان قلب میں اتر جائے گا تو اعمال کی کیفیت بدل جائے گی ‘ اعمال میں ایک نئی شان پیدا ہوجائے گی ‘ زندگی کے اندر ایک نیا رنگ آجائے گا جو کہ خالص اللہ کا رنگ ہوگا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : صِبْغَۃَ اللّٰہِج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃًر البقرۃ : 138۔ اور اس سے بھی آگے جب ایمان عین الیقین کا درجہ حاصل کرلے تو یہی درجۂ احسان ہے۔ حدیث نبوی ﷺ میں اس کی کیفیت یہ بیان ہوئی ہے : اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ 2 یہ کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا یہ کیفیت پیدا نہیں ہو رہی تو پھر یہ کیفیت تو پیدا ہونی چاہیے کہ وہ تو تجھے دیکھتا ہے۔ یعنی تم اللہ کی بندگی کرو ‘ اللہ کے لیے جہاد کرو ‘ اس کی راہ میں بھاگ دوڑ کرو ‘ اور اس میں تقویٰ کی کیفیت ایسی ہوجائے کہ جیسے تم اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ احسان کی یہ تعریف حدیث جبرائیل میں موجود ہے۔ اس حدیث کو اُمّ السُّنَّۃ کہا گیا ہے ‘ جیسے سورة الفاتحہ کو اُمّ القرآن کا نام دیا گیا ہے۔ جس طرح سورة الفاتحہ اساس القرآن ہے ‘ اسی طرح حدیث جبرائیل علیہ السلام سنت کی اساس ہے۔ اس حدیث میں ہمیں یہ تفصیل ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں حضور ﷺ کے پاس آئے۔ صحابہ رض کا مجمع تھا ‘ وہاں انہوں نے کچھ سوالات کیے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پہلا سوال اسلام کے بارے میں کیا : یَامُحَمَّدُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَامِ ! اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ اد اکرو ‘ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اگر تمہیں اس کے لیے سفر کی استطاعت ہو۔ یعنی اسلام کے ضمن میں اعمال کا ذکر آگیا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتلایئے ! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم ایمان لاؤ اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر ‘ اس کے رسولوں پر ‘ یوم آخرت پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر۔ اب یہاں یہ نکتہ غور طلب ہے کہ ایمان تو اسلام میں بھی موجود ہے ‘ یعنی زبانی اور قانونی ایمان ‘ لیکن دوسرے درجے میں ایمان کو اسلام سے علیحدہ کیا گیا ہے اور اعمال صالحہ کا تعلق ایمان کے بجائے اسلام سے بتایا گیا ہے۔ اس لیے کہ جب ایمان دل میں اتر کر یقین کی صورت اختیار کر جائے تو پھر اعمال کا ذکر الگ سے کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایمان کے اس مرحلے پر اعمال لازماً درست ہوجائیں گے۔ پھر ایمان جب دل میں مزید گہرا اور پختہ ہوتا ہے تو اعمال بھی مزید درست ہوں گے۔ یوں سمجھئے کہ جتنا جتنا درخت اوپر جا رہا ہے اسی نسبت سے جڑ نیچے گہرائی میں اتر رہی ہے۔ ایمان کی جڑ نے دل کی زمین میں قرار پکڑا تو اسلام سے ایمان بن گیا۔ جب یہ جڑ مزید گہری ہوئی تو تیسری منزل یعنی احسان تک رسائی ہوگئی اور یہاں اعمال میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ چناچہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے احسان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔۔ آپ ﷺ کا جواب تین روایتوں میں تین مختلف الفاظ میں نقل ہوا ہے : 1 اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ۔۔ 2 اَنْ تَخْشَی اللّٰہَ تَعَالٰی کَاَنَّکَ تَرَاہُ۔۔ 1 3 اَنْ تَعْمَلَ لِلّٰہِ کَاَنَّکَ تَرَاہُ 2۔ اگلے الفاظ : فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ تینوں روایتوں میں یکساں ہیں۔ یعنی ایک بندۂ مؤمن اللہ کی بندگی ‘ اللہ کی پرستش ‘ اللہ کے لیے بھاگ دوڑ ‘ اللہ کے لیے عمل ‘ اللہ کے لیے جہاد ایسی کیفیت سے سرشار ہو کر کر رہا ہوگویاوہ اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو جب اللہ سامنے ہوگا ‘ تو پھر کیسے کچھ ہمارے جذبات عبدیت ہوں گے ‘ کیسی کیسی ہماری قلبی کیفیات ہوں گی۔ اس دنیا میں بھی یہ کیفیت حاصل ہوسکتی ہے ‘ لیکن یہ کیفیت بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ چناچہ اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکے تو احسان کا ایک اس سے نچلا درجہ بھی ہے۔ یعنی کم از کم یہ بات ہر وقت مستحضر رہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ ہیں وہ تین درجے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں مولانا مودودی مرحوم کی ایک قابل قدر کتاب ہے۔ اس میں مولانا نے اسلام ‘ ایمان ‘ احسان اور تقویٰ چار مراتب بیان کیے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک تقویٰ علیحدہ سے کوئی مرتبہ ومقام نہیں ہے۔ تقویٰ وہ روح spirit اور وہ قوت محرکہ driving force ہے جو انسان کو نیکی کی طرف دھکیلتی اور ابھارتی ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر میں تقویٰ کی تکرار کا مفہوم یوں ہے کہ تقویٰ نے آپ کو baseline سے اوپر اٹھایا اور اب آپ کے ایمان اور عمل صالح میں اور رنگ پیدا ہوگیا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۔ پھر تقویٰ میں مزید اضافہ ہوا اور تقویٰ نے آپ کو مزید اوپر اٹھایا تو اب وہ یقین والا ایمان پیدا ہوگیا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا۔ اب یہاں عمل صالح کے علیحدہ ذکر کی ضرورت ہی نہیں۔ جب دل میں ایمان اتر گیا تو اعمال خود بخود درست ہوگئے۔ پھر تقویٰ اگر مزید روبہ ترقی ہے ثُمَّ اتَّقَوْا تو اس کے نتیجے میں وَاَحْسَنُوْا کا درجہ آجائے گا ‘ یعنی انسان درجۂ احسان پر فائز ہوجائے گا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔ آمین ! ایمان اور تقویٰ سے اعمال کی درستی کے ضمن میں نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان پیش نظر رہنا چاہیے : اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً ‘ اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُُ کُلُّہٗ ‘ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُکُلُّہٗ ‘ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ 1آگاہ رہو ‘ یقیناً جسم کے اندر ایک گوشت کا لوتھڑا ہے ‘ جب وہ درست ہو تو سارا جسم ‘ درست ہوتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ اور اللہ ایسے محسن بندوں کو محبوب رکھتا ہے۔اللہ کے جو بندے درجۂ احسان تک پہنچ جاتے ہیں وہ اس کے محبوب بن جاتے ہیں۔اس سورة مبارکہ آیت 71 میں پہلے ایک غلط راستے کی نشاندہی کی گئی تھی : فَعَمُوْا وَصَمُّوْا۔۔ ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا۔۔ یہ گمراہی و ضلالت کے مختلف مراحل کا ذکر ہے کہ وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ اللہ نے پھر ڈھیل دی تو اس پر وہ اور بھی اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ اللہ نے مزید ڈھیل دی تو وہ اور زیادہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ اس راستے پر انسان قدم بہ قدم گمراہی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ مگر ایک راستہ یہ ہے ‘ ہدایت کا راستہ ‘ اسلام ‘ ایمان ‘ احسان ‘ اور تقویٰ کا راستہ۔ یہاں انسان کو درجہ بہ درجہ ترقی ملتی چلی جاتی ہے۔
اس سورة مبارکہ کے شروع میں حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانعت آچکی ہے۔ اب اللہ کی اس سنت کا ذکر ہے کہ اللہ اپنے ماننے والوں کو آزماتا ہے ‘ سخت ترین امتحان لیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ حاجیوں کا ایک قافلہ جا رہا ہے ‘ سب نے احرام باندھا ہوا ہے ‘ اتفاق سے ان کے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں۔ اب ایک ہرن اٹھکیلیاں کرتے ہوئے قریب آ رہا ہے ‘ بھوک بھی ستا رہی ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو ذرا سا نیزہ ماریں اور شکار کرلیں یا ویسے ہی بھاگ کر پکڑ لیں ‘ لیکن پکڑ نہیں سکتے ‘ شکار نہیں کرسکتے ‘ کیونکہ احرام میں ہیں اور اس حالت میں اجازت نہیں ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس طرح آزماتا ہے۔آیت 94 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَرِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بالْغَیْب ِج شکار پہنچ میں بھی ہے ‘ ان کے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہے ‘ ضرورت بھی ہے ‘ چاہیں تو شکار کرلیں ‘ لیکن مجبور ہیں ‘ کیونکہ احرام باندھا ہوا ہے۔ تو جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ اپنی بھوک کو برداشت کرے گا ‘ اللہ کے حکم کو نہیں توڑے گا۔
آیت 95 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ کفارے کے طور پر اللہ کی راہ میں ویسا ہی ایک چوپایہ صدقہ کیا جائے گا۔ یعنی اگر آپ نے ہرن مارا تو بکری یا بھیڑ دی جائے گی اور اگر نیل گائے مار دی تو پھر گائے بطور کفارہ دینا ہوگی۔ اس طرح جس قسم اور جس جسامت کا حیوان شکار کیا گیا ہے ‘ اس کے برابر کا چوپایہ صدقہ کرنا ہوگا۔یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ یعنی دو متقی اور معتبر اشخاص اس کی گواہی دیں کہ یہ جانور اس شکار کیے جانے والے جانور کے برابر ہے۔ہَدْیًام بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ یہ جانور ہدی کے طور پر خانہ کعبہ کی نذر کیا جائے گا۔ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اس میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر اناج یا رقم دینا ہو تو وہ صدقۂ فطر کے حساب سے ہوگی۔ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا یا اتنے ہی روزے رکھنا یہ دیکھنا ہوگا کہ جو جانورشکار ہوا ہے اسے کتنے آدمی کھا سکتے تھے۔ اتنے آدمیوں کو کھانا کھلایا جائے یا اتنے دن کے روزے رکھے جائیں۔