سورۃ المجادلہ: آیت 12 - يا أيها الذين آمنوا إذا... - اردو

آیت 12 کی تفسیر, سورۃ المجادلہ

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَٰجَيْتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ تر ہے البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور و رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo itha najaytumu alrrasoola faqaddimoo bayna yaday najwakum sadaqatan thalika khayrun lakum waatharu fain lam tajidoo fainna Allaha ghafoorun raheemun

آیت 12 کی تفسیر

یایھا الذین .................... غفور رحیم (85 : 21) ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلس میں کشادگی پیدا کرو ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ کو اس کی خبر ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو ، یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ “

اس آیت پر حضر علی ؓ نے عمل کیا۔ آپ کے پاس ایک دینار تھا۔ آپ نے اسے روپوں میں تبدیل کیا ۔ آپ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ جس وقت الگ کوئی مشورہ کرتے تو ایک درہم کا صدقہ کردیتے لیکن مسلمانوں پر یہ امر بہت ہی شاق گزرا۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم تھا۔ جو مقصد اس امر سے تھا وہ پورا ہوگیا تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے اوقات کس قدر قیمتی ہیں۔ اس لئے اللہ نے یہ حکم واپس لے لیا۔ دوسری آیت آگئی۔

اور ان کو متوجہ کردیا کہ عبادات اور اللہ کی فرمانبرداری کرو۔

آیت 12{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰٹکُمْ صَدَقَۃً } ”اے اہل ایمان ! جب تم رسول ﷺ سے تخلیہ میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس بات چیت سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو۔“ اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ منافقین میں سے اکثر لوگ وقتاً فوقتاً بلاوجہ حضور ﷺ سے تخلیہ میں بات کرنے کا تقاضا کرتے تھے۔ حضور ﷺ مروّت کے باعث ہر کسی کی بات مان تو لیتے ‘ لیکن منافقین کا یہ طرزعمل آپ ﷺ کے لیے زحمت کا باعث تھا۔ یہ لوگ حضور ﷺ سے ایسی ملاقاتیں محض اپنی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کرتے تھے ‘ تاکہ لوگ دیکھیں کہ حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے والا یہ شخص حضور ﷺ کے بہت قریب ہے اور حضور ﷺ کو اس پر بہت اعتماد ہے۔ جیسے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا معمول تھا کہ حضور ﷺ جب خطبہ جمعہ کے لیے کھڑے ہوتے تو وہ محض اپنی چودھراہٹ جتانے کے لیے فوراً اگلی صف میں کھڑا ہوجاتا اور حاضرین سے مخاطب ہو کر کہتا کہ لوگو ! یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ‘ ان کی بات غور سے سنو ! یہ شخص مدینہ کے سب سے بڑے قبیلے خزرج کا سردار تھا۔ حضور ﷺ کی ہجرت سے قبل اہل مدینہ کا اتفاق ہوچکا تھا کہ مدینہ میں ایک مستحکم ریاستی نظام قائم کیا جائے تاکہ روز روز کی جنگوں اور باہمی خون ریزی سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ اس کے لیے عبداللہ بن ابی کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور اس کے لیے تاج بھی تیارہو چکا تھا۔ بس رسم تاجپوشی کا انعقاد باقی تھا کہ حضور ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور آتے ہی مدینہ کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔ اس طرح آپ ﷺ کی وجہ سے عبداللہ بن ابی کی بادشاہت کا خواب ناتمام رہ گیا۔ حالات کا رخ دیکھتے ہوئے اس نے ظاہری طور پر تو مسلمانی کا لبادہ اوڑھ لیا لیکن عمر بھر حضور ﷺ کی مخالفت کا کوئی موقع اس نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ بہرحال حالات کی مجبوری تھی کہ ایسا شخص بھی حضور ﷺ سے اپنی قربت جتلانے اور اپنی خصوصی حیثیت نمایاں کرنے کے لیے جمعہ کے اجتماع میں یہ ڈرامہ رچانا ضروری سمجھتا تھا۔ منافقین کے اس طرزعمل کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے ذریعے حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے پر ایک طرح کا ٹیکس عائد کردیا کہ اگر تمہارا حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنا ایسا ہی ضروری ہے تو پہلے اپنے مال میں سے کچھ صدقہ دو اور پھر آکر اس مقصد کے لیے حضور ﷺ سے وقت مانگو۔ منافقین چونکہ انفاق سے گھبراتے ہیں اس لیے اس حکم کے بعد ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی صدقہ دے کر حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست نہ کی۔ یہ حکم البتہ بہت تھوڑی دیر نافذ رہا اور جلد ہی اسے اگلی آیت کے ذریعے منسوخ کردیا گیا۔ حضرت علی رض کہتے ہیں کہ میں واحد شخص تھا جس نے اس حکم پر عمل کیا اور صدقہ دے کر حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست کی۔ { ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّــکُمْ وَاَطْہَرُ } ”یہ تمہارے لیے بہتر بھی ہے اور زیادہ پاکیزہ بھی۔“ { فَاِنْ لَّـمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پائو تو اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“ یعنی غریب اور نادار لوگ اس حکم پر عمل نہیں بھی کرسکتے تو کوئی مضائقہ نہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول فرماتے ہوئے انہیں معاف فرمائے گا۔ لیکن ظاہر ہے جن لوگوں کی وجہ سے یہ حکم نازل ہوا وہ تو سب کے سب متمول ‘ مرفہ الحال اور بڑے لوگ تھے جو حضور ﷺ سے اپنی قربت جتلا کر لوگوں کے سامنے مزید ”بڑے“ بننا چاہتے تھے۔

نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کی منسوخ شرط اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہوجاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔ پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف حضرت علی ؓ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے حضور سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ حضرت علی ؓ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کرسکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھناکر میں نے دس درہم لے لئے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دیدیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی سے پوچھا کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو بہت ہوئی۔ فرمایا پھر آدھا دینار کہا ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں آپ نے فرمایا اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر ؟ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ نے فرمایا واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کردی، ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مسلمان برابر حضور ﷺ سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کردیئے جو حضور ﷺ پر گراں گزرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کردی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کردی اور اس حکم کو منسوخ کردیا، عکرمہ اور حسن بصری کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، حضرت قتادہ اور حضرت مقاتل بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت قتادہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا حضرت علی ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کرسکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہوگیا۔

آیت 12 - سورۃ المجادلہ: (يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة ۚ ذلك خير لكم وأطهر ۚ فإن لم...) - اردو