سورۃ المجادلہ: آیت 13 - أأشفقتم أن تقدموا بين يدي... - اردو

آیت 13 کی تفسیر, سورۃ المجادلہ

ءَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَٰتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا۟ وَتَابَ ٱللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اردو ترجمہ

کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہونگے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aashfaqtum an tuqaddimoo bayna yaday najwakum sadaqatin faith lam tafAAaloo wataba Allahu AAalaykum faaqeemoo alssalata waatoo alzzakata waateeAAoo Allaha warasoolahu waAllahu khabeerun bima taAAmaloona

آیت 13 کی تفسیر

ءاشفقتم ................ بما تعملون (85 : 31) ” کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو ........ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ........ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوة دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس بےباخبر ہے۔ “

ان دونوں آیات اور ان کے شان نزول میں وارد احادیث کے فلسفے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے بڑے معاملات میں مسلمانوں کی تربیت کے لئے اور اسلامی جماعت کو تیار کرنے کے لئے کس قدر جدوجہد کی گئی۔

اب سیاق کلام منافقین کی طرف پھرتا ہے۔ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ گہری دوستی اور راہ ورسم رکھتے تھے ۔ ان کے بعض حالات کھولے جاتے ہیں اور ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ تمہارے سب کرتوت اب چھپے نہیں رہے اور تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ دعوت اسلامی تمہاری تمام سازشوں کے باوجود اب کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

آیت 13{ ئَ اَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰٹکُمْ صَدَقٰتٍ } ”کیا تم ڈر گئے اس سے کہ رسول ﷺ کے ساتھ اپنی تنہائی کی باتوں سے پہلے صدقات پیش کرو ؟“ { فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ } ”پھر جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے بھی تم پر نظر ِ عنایت فرما دی“ { فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”تو بس نماز قائم رکھو ‘ زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔“ { وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔“ اس آیت کے ذریعے اس حکم کو جلد ہی منسوخ بھی کردیا گیا ‘ لیکن اس حکم سے ان لوگوں کی قلعی کھل گئی جو محض ریاکاری کے لیے حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کے شوقین تھے۔ پہلے تو وہ اس مقصد کے لیے باربار حضور ﷺ کے پاس آتے تھے ‘ لیکن صدقہ کے حکم کے بعد ان میں سے کسی کو بھی علیحدگی میں بات کرنے کی حاجت محسوس نہ ہوئی۔ بہرحال مذکورہ حکم کے بعد جب ان میں سے کوئی شخص بھی صدقہ دے کر حضور ﷺ سے علیحدگی میں بات کرنے کی درخواست لے کر نہ آیاتو اس حکم کی منسوخی کے بعد اپنا پرانا طرزعمل دہراتے ہوئے وہ شرم تو محسوس کرتے ہوں گے اور یہی دراصل اس وقتی اور عارضی حکم کا اصل مقصد تھا۔

آیت 13 - سورۃ المجادلہ: (أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات ۚ فإذ لم تفعلوا وتاب الله عليكم فأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وأطيعوا الله...) - اردو