سورۃ المجادلہ: آیت 14 - ۞ ألم تر إلى الذين... - اردو

آیت 14 کی تفسیر, سورۃ المجادلہ

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ تَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى ٱلْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

اردو ترجمہ

کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam tara ila allatheena tawallaw qawman ghadiba Allahu AAalayhim ma hum minkum wala minhum wayahlifoona AAala alkathibi wahum yaAAlamoona

آیت 14 کی تفسیر

الم ترالی ........................................ ھم المفلحون

یہ منا یقین پر ایک تنقیدی حملہ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی قوم سے دوستی کررہے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں کے خلاف نہایت گہری چالیں چلتے تھے اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمنوں یعنی یہودیوں کے ساتھ مل کر یہ سازشیں تیار کرتے تھے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اقتدار مستحکم ہوگیا تھا۔ کیونکہ جب ان پر رسول اللہ اور مسلمان تنقید کرتے تھے اور ان سے باز پرس کرتے تھے تو یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے تھے۔ حالانکہ رسول اللہ اور مسلمان جو بات کرتے تھے وہ اللہ کی طرف سے فراہم کردہ انکشافات پر مبنی ہوتی تھی۔ جب وہ حلف اٹھاتے تھے تو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ وہ اپنی قسموں کی آڑ میں اپنے آپ کو اس مواخذے سے بچاتے تھے۔ کیونکہ ان کی تمام سازشیں اسلامی حکومت کی طرف سے قابل مواخذہ تھیں۔

اتخذوا ................ جنة (85 : 61) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ “ اس طرح وہ اپنی سازشیں جاری رکھی ہوئے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔

ان آیات کے درمیان اللہ نے ان کو بار بار دھمکی دی۔

آیت 14{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے طرزِعمل پر جنہوں نے دوستی گانٹھی ہے ان لوگوں سے جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔“ اللہ کے غضب کے حوالے سے یہاں قوم یہود مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ کی طرف اشارہ ہے اور ان سے دوستیاں گانٹھنے والے اوس اور خزرج کے منافقین تھے جو ان کے ساتھ اپنے پرانے حلیفانہ تعلقات کو ابھی تک نبا ہے چلے جا رہے تھے۔ { مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ } ”نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں“ منافقین کے اس دوغلے کردار کا ذکر سورة النساء آیت 143 میں اس طرح ہوا ہے : { لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ } ”نہ تو یہ ان کی جانب ہیں اور نہ ہی ان کی جانب ہیں۔“ { وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور وہ جانتے بوجھتے جھوٹ پر قسمیں اٹھاتے ہیں۔

دوغلے لوگوں کا کردار منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ﷺ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھالیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اس لئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کرسکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہوگا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہوگا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہوجائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کردکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے ؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا حضور ﷺ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور ﷺ نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور ﷺ کی کوئی بےادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہوگا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کرلیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔ حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

آیت 14 - سورۃ المجادلہ: (۞ ألم تر إلى الذين تولوا قوما غضب الله عليهم ما هم منكم ولا منهم ويحلفون على الكذب وهم يعلمون...) - اردو