یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔
ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔
الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔
ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔
فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔
اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔
الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔
یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔
آیت 18{ یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَـیَحْلِفُوْنَ لَـہٗ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَـکُمْ } ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی قسمیں کھائیں گے جیسے آج تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں“ یعنی یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھانے کے اس حد تک عادی ہوچکے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل کے سامنے بھی اسی طرح جھوٹی قسمیں کھانا شروع ہوجائیں گے کہ ہم ایسے نہیں کہتے تھے اور ہم ویسے نہیں کرتے تھے۔ { وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّـہُمْ عَلٰی شَیْئٍ } ”اور وہ سمجھیں گے کہ وہ کسی بات پر ہیں۔“ اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر بھی وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہمارے اعمال کی بھی کچھ نہ کچھ حیثیت تو ہے۔ آخر ہم مسلمان ہوئے تھے ‘ ہم نے اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں نمازیں پڑھی تھیں ‘ روزے رکھے تھے ‘ سب مسلمانوں کے ساتھ مل کر مہمات میں حصہ لیتے رہے تھے۔ اس طرح ہم دنیا سے کچھ نہ کچھ نیک اعمال تو لے کر آئے ہی ہیں۔ { اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔ } ”آگاہ ہو جائو کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔“