سورۃ المجادلہ: آیت 19 - استحوذ عليهم الشيطان فأنساهم ذكر... - اردو

آیت 19 کی تفسیر, سورۃ المجادلہ

ٱسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَأَنسَىٰهُمْ ذِكْرَ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حِزْبُ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱلشَّيْطَٰنِ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

اردو ترجمہ

شیطان اُن پر مسلط ہو چکا ہے اور ا ُس نے خدا کی یاد اُن کے دل سے بھلا دی ہے وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Istahwatha AAalayhimu alshshaytanu faansahum thikra Allahi olaika hizbu alshshaytani ala inna hizba alshshaytani humu alkhasiroona

آیت 19 کی تفسیر

آیت 19{ اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰٹہُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ } ”شیطان نے ان کے اوپر قابو پا لیا ہے ‘ پس انہیں اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔“ شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے انہیں اللہ کی یاد سے غافل کردیا ہے۔ { اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ } ”یہ لوگ ہیں شیطان کی جماعت۔“ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں شیطان کی یہ جماعت تین گروہوں پر مشتمل تھی۔ ان میں شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار مشرکین عرب تھے۔ انہوں نے اسلام کی مخالفت اور اپنے ”دین“ کی حمایت میں ہر طرح کی قربانیاں دیں ‘ جنگیں بھی لڑیں اور اپنے باطل معبودوں کے لیے گردنیں بھی کٹوائیں۔ دوسرا گروہ یہود مدینہ کا تھا ‘ جبکہ تیسرا گروہ منافقین پر مشتمل تھا۔ منافقین مسلمانوں کے اندر رہتے ہوئے ان کے خلاف fifth columnists کا کردار ادا کر رہے تھے۔ آیات زیر مطالعہ میں خصوصی طور پر ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اگرچہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمانوں کی صفوں میں بیٹھے ہیں ‘ لیکن اصل میں یہ حزب الشیطان ہی کے ارکان ہیں۔ مسلمانوں کی مخالفت کے حوالے سے ان لوگوں کے کردار کی مزید تفصیل اگلی سورة یعنی سورة الحشر میں بیان ہوئی ہے۔ { اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ } ”آگاہ ہو جائو ! شیطان کی جماعت کے لوگ ہی حقیقت میں خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“

آیت 19 - سورۃ المجادلہ: (استحوذ عليهم الشيطان فأنساهم ذكر الله ۚ أولئك حزب الشيطان ۚ ألا إن حزب الشيطان هم الخاسرون...) - اردو