سورۃ المجادلہ: آیت 20 - إن الذين يحادون الله ورسوله... - اردو

آیت 20 کی تفسیر, سورۃ المجادلہ

إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحَآدُّونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْأَذَلِّينَ

اردو ترجمہ

یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena yuhaddoona Allaha warasoolahu olaika fee alathalleena

آیت 20 کی تفسیر

ان الذین ........................ قوی عزیز (12) (85 : 02۔ 12) ” یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوکر رہیں گے۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے “۔

یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے جو سچا ہوکر رہا ہے۔ اور آئندہ بھی سچا ہوکر رہے گا۔ اگرچہ بظاہر اس سچے وعدے کے حالات مخالف نظر آئیں۔

عملاً جو جزیرة العرب میں جو ہوا ، وہ یہی تھا کہ ایمان اور توحید غالب آگئے۔ کفر اور شرک مغلوب ہوئے اور جزیرة العرب میں اسلامی نظریہ حیات غالب ہوگیا۔ اور کفر اور شرک کے ساتھ ایک طویل کشمکش کے بعد اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد پوری انسانیت عقیدہ توحید کے سامنے سرنگوں ہوئی۔ اگرچہ دنیا کے بعض علاقوں میں شرک اور کفر نے ایک عارضی وقت کے لئے غلبہ حاصل کرلیا۔ جس طرح آج ملحد اور بت پرست حکومتوں میں شرکیہ عقائد کا کسی نہ کسی جگہ غلبہ ہے لیکن عقیدہ توحید پوری دنیا میں غالب رہا ہے۔ نیز الحاد اور شرک مسلسل زوال پذیر ہیں۔ اس لئے کہ شرک اپنے مختلف مظاہر کے ساتھ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ دنیا میں باقی رہے۔ اور جدید سائنس نے انسانیت کو عقیدہ توحید پر بہت سے جدید دلائل بھی فراہم کردیئے ہیں لہٰذا ایمان اور توحید مسلسل ترقی میں ہے۔ اور شرکیہ عقائد ونظریات سکڑ رہے ہیں۔

ایک مومن تو اللہ کے وعدے کو ایک حقیقت سمجھتا ہے۔ اگر کسی زمانے میں ایک محدود نسل یا محدود قطعہ زمین اس کے خلاف نظر آئے تو اسے یقین کرنا چاہئے کہ وہ صورت حال عارضی ہے اور بدلنے والی ہے۔ اور یہ عارضی غلبہ کفر بھی کسی حکمت کے تحت ہوگا۔ اور شاید اس لئے کہ اہل ایمان اسے اپنی ایمانی غیرت کے لئے ایک چیلنج سمجھیں اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق مغلوب ہو۔

آج ہمارے دور میں ایمان کے دشمن ، ہر طرف سے اہل ایمان کے خلاف جنگ آزما ہیں اور ہر طرف سے حملہ آور ہیں اور انہوں نے ایمان کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع کررکھی ہے۔ ہر طرف سے پکڑ دھکڑ ، سازشیں اور مسلسل اور متنوع سازشیں اسلام اور ایمان کے خلاف ہورہی ہیں۔ اس طرح کہ مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے ، ملک بدر کیا جارہا ہے ، ان کو قسم قسم کی اذیتیں دی جارہی ہیں ، ان کے ذرائع رزق بند کیے جارہے ہیں ، اور ان پر ہر قسم کی ذلت مسلط کررکھی ہیں اس کے باوجود اہل ایمان کے دل ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔ ان کو گرنے سے بچایا جاتا ہے اور وہ غالب اقوام کے اندر پگھل کر ضم نہیں ہوتے۔ اور وہ یہ مشکلات برداشت کرکے بھی ایسے مواقع کے انتظار میں ہیں کہ کفر پر حملہ آور ہوں اور اسے پاش پاش کرکے رکھ دیں۔ ایک طویل عرصے سے مسلمان اس صورت حال سے دو چار ہیں لیکن ان کا ایمان مضبوط ہے اور وہ جدوجہد میں مصروف ہیں تو اس سے نظر آتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول غالب ہوکر رہیں گے اور اس سلسلے میں ان کو کوئی طویل انتظار بھی نہ کرنا پڑے گا۔

لہٰذا مومن کو اپنے دل میں یہ شک نہیں لانا چاہئے کہ ایمان غالب رہے گا۔ اللہ کا وعدہ ایک حقیقت ہے اور اس نے جلد یا بدیر حقیقت کا روپ اختیار کرنا ہے اور جو لوگ اللہ و رسول اللہ اور اسلام کے دشمن ہیں وہ ذلیل ہوکر رہیں گے اور اللہ اور رسول ہی غالب رہیں گے۔ یہ بات ہوتی ہے اور ہوکر رہے گی۔ لیکن بظاہر حالات ایسے ہوا کرتے ہیں ، جو اس کے خلاف نظر آتے ہیں۔

اور آخر میں وہ اصول جس پر مسلمانوں کو جم کر رہنا چاہئے۔ یہ اصل اصول ہے اور یہ ایمان کے سچے ہونے اور جھوٹے دعوائے ایمان کے لئے ایک ترازو ہے۔

آیت 20{ اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اُولٰٓئِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ۔ } ”یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت پر ُ تلے بیٹھے ہیں ‘ وہی ذلیل ترین لوگوں میں سے ہوں گے۔“ ذلت کے ذکر کے لیے اَذَلِّیْن ذلیل ترین یہاں ”تفضیل کل“ superlative degree کے طور پر آیا ہے۔ سورة النساء کی اس آیت میں بھی منافقین کے لیے بالکل یہی اسلوب اختیار فرمایا گیا ہے : { اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا۔ } ”یقینا منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے ‘ اور تم نہ پائو گے ان کے لیے کوئی مدد گار۔“

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کرچکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کرچکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51؀ۙ) 40۔ غافر :51) ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان دار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہوجائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب وقہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔ پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے اور جگہ ہے اے نبی ﷺ آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھر بار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول ﷺ کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ حضرت سعید بن عبدالعزیز ؒ فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح ؓ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لئے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنالیں اس وقت حضرت ابو عبیدہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور حضرت معصب بن عمیر ؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور حضرت عمر اور حضرت حمزہ اور حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا واللہ اعلم۔ اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہوسکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہوجائیں مشرکوں سے جہاد کرنے کے لئے آلات حرب جمع کرلیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کردیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئے اور حضرت علی کے حوالے عقیل کر دیجئے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئے وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محب سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جمالی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت بچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنادیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کردیا تھا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہوگیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہوگئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے، حضرت ابو حازم اعرج نے حضرت زہری ؒ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکو کار ہیں اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آجائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ (ابن ابی حاتم) نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں فرمایا اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے، حضرت سفیان فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں (ابو احمد عسکری) الحمد اللہ سورة مجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔

آیت 20 - سورۃ المجادلہ: (إن الذين يحادون الله ورسوله أولئك في الأذلين...) - اردو