سورۃ الملک: آیت 12 - إن الذين يخشون ربهم بالغيب... - اردو

آیت 12 کی تفسیر, سورۃ الملک

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِٱلْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

اردو ترجمہ

جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena yakhshawna rabbahum bialghaybi lahum maghfiratun waajrun kabeerun

آیت 12 کی تفسیر

ان الذین ................ اجرکبیر

غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور تمہارے رب کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رب تو تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ ہمارا رب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ” نفاق نہیں ہے “۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ رابطہ حقیقی رابطہ ہے۔ جب اللہ پر یقین ہو تو ایسا شخص مومن ہے۔

یہ مذکورہ بالا آیت مضمون ماقبل اور مضمون مابعد دونوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کو ہر حالت کا علم ہے خواہ کوئی ظاہر ہو یا خفیہ ، تنہائیوں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پکار کر لوگوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پیدا کیا اور میں تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہوں مجھے اپنی مخلوق کی تمام صلاحیتوں کا علم ہے۔

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے مسند بزار میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ نے فرمایا یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے ؟ جواب دیا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں، فرمایا جاؤ پھر یہ نفاق نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو، مخلوق سے خالق بیخبر ہو، وہ تو بڑا باریک بین اور بیحد خبر رکھنے والا ہے۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ زمین کو اس نے تمہارے لئے مسخر کردیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں، پانی کے چشمے اس میں جاری کردیئے ہیں، راستے اس میں مہیا کردیئے ہیں، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے، جس جگہ تم جانا چاہو جاسکتے ہو طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمہیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں، پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے، حضرت ابن عباس وغیرہ تو (مناکب) سے مراد راستے کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں، قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں۔ حضرت بشیر بن کعب ؒ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر (مناکب) کی صحیح تفسیر تم بتادو تو تم آزاد ہو اس نے کہا مراد اس سے پہاڑ ہیں آپ نے حضرت ابو درداء ؓ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے۔

آیت 12 - سورۃ الملک: (إن الذين يخشون ربهم بالغيب لهم مغفرة وأجر كبير...) - اردو