سورۃ الملک: آیت 28 - قل أرأيتم إن أهلكني الله... - اردو

آیت 28 کی تفسیر, سورۃ الملک

قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِىَ ٱللَّهُ وَمَن مَّعِىَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ ٱلْكَٰفِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul araaytum in ahlakaniya Allahu waman maAAiya aw rahimana faman yujeeru alkafireena min AAathabin aleemin

آیت 28 کی تفسیر

قل ارئیتم ............................ عذاب الیم

” یہ ایسا سوال ہے ، جو انہیں سنجیدہ غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور یہ دعوت ہے کہ اپنے معاملات پر ذرا غور کرو ، تمہارے لئے بہتر یہ ہے۔ اگر نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک بھی ہوجائیں تو تمہیں کیا فائدہ ہوگا۔ اللہ تو باقی ہے۔ نبی اور اس کے ساتھی اللہ کے دائرہ رحم میں ہیں۔ لیکن تمہیں تو اس کے سامنے جانا ہے۔ اس نے تمہیں پیدا کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔ تمہاری تیاری کیا ہے ؟

یہ سیاق کلام میں۔

من ................ الکفرین (76 : 82) ؟ ؟ کہا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ تم کافر ہو ، بلکہ یہ کہ جو کافر ہوں گے ان کو کون بچائے گا۔ اشارہ یہ ہے کہ عذاب کافروں کے لئے ہے۔

فمن ........................ الیم (76 : 82) ” کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچائے گا “۔ یہ دعوت کا حکیمانہ اسلوب ہے۔ ایک طرف انہیں ڈرایا جاتا ہے دوسری جانب اشارہ دیا جاتا ہے کہ واپس ہوجاﺅ حماقت کا راستہ اختیار کرکے منہ آتے۔ اور براہ راست اقدام کی وجہ سے عناد میں مبتلا ہوجاتے۔

بعض اوقات اشاراتی انداز صریح انداز سے زیادہ اثر کرتا ہے۔” نہ ہم سمجھے کہ تم آئے کہیں سے “۔ ایسا انداز بہت موثر ہوتا ہے۔

اب اس اشارہ کے بعد دونوں موقف برابر نہیں ہیں۔ مومنین کو اپنے رب پر بھروسہ ہے۔ وہ توکل علی اللہ کرکے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، اور اپنے ایمان پر وہ مطمئن ہیں ، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت پر ہیں اور دراصل کھلی گمراہی میں تو ان کا فریق مخالف مبتلا ہے۔

آیت 28{ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَہْلَکَنِیَ اللّٰہُ وَمَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَالا فَمَنْ یُّجِیْرُ الْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کہ اگر اللہ مجھے اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں ‘ ان کو ہلاک کردے یا وہ ہم پر رحم کرے ‘ تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟“ یعنی ہم نے تو اپنا معاملہ اپنے اللہ کے سپرد کر رکھا ہے۔ ہم اللہ کے بتائے ہوئے جس راستے پر چل رہے ہیں اس میں یا تو ہماری جانیں چلی جائیں گی یا ہم فتح یاب ہوں گے۔ ان میں سے جو صورت بھی ہو ‘ ہمارے لیے تو کامیابی ہی کامیابی ہے۔ بلکہ ہماری اصل اور ابدی کامیابی تو وہ ہے جسے تم ہلاکت سمجھتے ہو۔ بہرحال صورت ِحال جو بھی ہو ‘ ان دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی اِحْدَی الْحُسْنَـیَیْنِ التوبۃ : 52 تو ہمیں مل کر ہی رہے گی۔ ہمارے غلبے اور فتح کی صورت میں تو تم بھی ہمیں کامیاب قرار دو گے ‘ لیکن ہم اگر بقول تمہارے ہلاک بھی ہوگئے تو تم اپنے بارے میں بھی تو سوچو کہ تم لوگوں کو اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ؟

زمین سے پانی ابلنا بند ہوجائے تو ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچایا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا ؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہوسکتا ؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں، نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورت تلاش کرو۔ پھر فرمایا ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے، جیسے ارشاد فرمایا آیت (فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ01203) 11۔ ھود :123) اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر، اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسران میں کون پڑتا ہے ؟ رب کی رحمت کس پر ہے ؟ اور ہدایت پر کون ہے ؟ اللہ کا غضب کس پر ہے اور بری راہ پر کون ہے ؟ پھر فرماتا ہے اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے ہی نہیں گو تم کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا ابلنے اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے ؟ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں، وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھرجاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پوری کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہوجاتا ہے، فالحمد للہ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سورة ملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں اللہ رب العالمین کہنا چاہئے۔ مترجم)۔

آیت 28 - سورۃ الملک: (قل أرأيتم إن أهلكني الله ومن معي أو رحمنا فمن يجير الكافرين من عذاب أليم...) - اردو