سورۃ المومنون: آیت 30 - إن في ذلك لآيات وإن... - اردو

آیت 30 کی تفسیر, سورۃ المومنون

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ وَإِن كُنَّا لَمُبْتَلِينَ

اردو ترجمہ

اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna fee thalika laayatin wain kunna lamubtaleena

آیت 30 کی تفسیر

ان …. لمبتلین (آیت نمبر) ابتداء بہت سی قسمیں ہیں ، بعض آزمائشیں صبر کے لیے ہیں بعض آزمائشیں شکر کے لیے ہوتی ہیں۔ بعض آزمائشیں اجر کے لیے ہوتی ہے ۔ قصہ نوح میں آنے والوں کے لیے ہر قسم کی آزمائش اور نصیحت ہے۔

اب ایک دوسری رسالت کا منظر اور تکذیب کے نتائج جبکہ دعوت بھی ایک ہے اور رسالت بھی دی ہے۔

آیت 30 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ وَّاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ ”اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے تحت دنیا میں مختلف لوگوں کو مختلف انداز میں آزماتے رہتے ہیں۔ اس اصول اور قانون کے بارے میں سورة الملک کے آغاز میں یوں ارشاد ہوا ہے : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط آیت 2 ”وہی اللہ ہے جس نے موت اور حیات کو بنایا ہی اس لیے ہے کہ تمہیں پرکھے کہ تم میں سے عمل کے لحاظ سے بہتر کون ہے !“

آیت 30 - سورۃ المومنون: (إن في ذلك لآيات وإن كنا لمبتلين...) - اردو