آخر میں اثر انگیر تبصرہ :
یا یھا الذین .................... القبور (06 : 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت سے مایوس ہیں اور وہ آخرت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان کو تشبیہ ان کفار سے دی گئی ہے جو قبروں میں ہیں۔ ان کو تو معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اب وہ دائمی جہنمی ہیں۔ دنیا کی مہلت ختم ہے۔ اب حشر میں صرف حساب ہونا ہے اور انہوں نے جہنم میں گرنا ہے۔
یہ آخری پکار پوری سورت کی پکاروں کو اور پوری سورت کی دعوتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس طرح سورت کا خاتمہ اور آغاز ایک ہی مضمون سے ہوا کہ مغضوب علیھم کو دوست نہ بناؤ اور اس خاتمے کے اندر سورت کی تمام آواز کو جمع کردیا گیا۔
آیت 13{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ } ”اے اہل ِایمان ! ان لوگوں کے ساتھ دوستی مت کرو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ہے“ نوٹ کیجیے ‘ جس مضمون سے سورت کا آغاز ہوا تھا اختتام پر وہی مضمون دوبارہ آگیا ہے۔ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ سے یہودی مراد ہیں اور یہاں اہل ایمان کو واضح طور پر منع کیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ تمہاری دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ { قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۔ } ”یہ لوگ آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ کفار مایوس ہوچکے ہیں اصحابِ قبور میں سے۔“ آیت کے اس حصے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے قبروں میں پڑے ہوئے کفار اپنی نجات سے مایوس ہیں۔ ظاہر ہے مرنے کے بعد کفار پر تمام حقائق منکشف ہوچکے ہیں اور ان حقائق کو دیکھتے ہوئے انہیں سزا سے بچنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مفہوم یوں ہے کہ یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہوچکے ہیں جیسے کفار اصحاب القبور کے دوبارہ اٹھنے سے مایوس ہیں۔ یہ دونوں مفاہیم اپنی اپنی جگہ درست ہیں ‘ اس لیے اس فقرے کے تراجم دونوں طرح سے کیے گئے ہیں۔
کفار سے دلی دوستی کی ممانعت اس سورت کی ابتداء میں جو حکم تھا وہی انتہا میں بیان ہو رہا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار سے جن پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اتر چکی ہے اور اللہ کی رحمت اور اس کی شفقت سے دور ہوچکے ہیں تم ان سے دوستانہ اور میل ملاپ نہ رکھو، وہ آخرت کے ثواب سے اور وہاں کی نعمتوں سے ایسے ناامید ہوچکے ہیں جیسے قبروں والے کافر، اس پچھلے جملے کے دو معنی کے گئے ہیں ایک تو یہ کہ جیسے زندہ کافر اپنے مردہ کافروں کے دوبارہ زندہ ہونے سے مایوس ہوچکے ہیں، دوسرے یہ کہ جس طرح مردہ کافر ہر بھلائی سے ناامید ہوچکے ہیں وہ مر کر آخرت کے احوال دیکھ چکے اور اب انہیں کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہیں رہی، الحمد اللہ سورة ممتحنہ کی تفسیر ختم ہوئی۔