واذا ........................ الفضل (11:77 تا 14) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “
اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔
آیت 1 1{ وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ۔ } ”اور جب رسولوں علیہ السلام کے کھڑے ہونے کا وقت آپہنچے گا۔“ جب انبیاء ورسل - اللہ تعالیٰ کی عدالت میں شہادتیں دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔