کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ” ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے “۔ یعنی وہ جن گناہوں اور نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے ہیں انہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا ہے۔ اور جب کوئی شخص معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل زنگ پکڑ کر سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر ایک دبیز پردہ پڑجاتا ہے اور یہ دل نور سے چھپ جاتا ہے اور اس کا احساس دھیرے دھیرے ختم ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ احساس ہی ختم ہوجاتا ہے۔
امام ترمذی اور نسائی نے محمد ابن عملان سے انہوں نے قنقاع سے انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس سے اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اب اگر وہ توبہ کرے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ پھر گناہ کرے تو یہ سیاہی بڑھ جاتی ہے “۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ اور امام نسائی کے الفاظ یہ ہیں : ” جب انسان کسی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ اگر اس نے برائی سے ہاتھ کھینچ لیا ، استغفار کیا اور توبہ کرلیا تو اس کا دل صیقل ہوجاتا ہے۔ اگر اس نے دوبارہ اس برائی کا ارتکاب کیا تو اس نقطے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ سیاہی اسکے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہ ہے وہ زنگ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
کلا بل ........................ یکسبون (14:83) ؟ ؟ ہرگز نہیں ، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ” یہ گناہ پر گناہ ہے ، یہاں تک کہ دل اندھا ہوجاتا ہے اور پھر مرجاتا ہے “۔
یہ ہے تکذیب کرنے والوں کا حال اور یہ ہے ان کی تکذیب اور ان کے فسق وفجور کی علت۔ اب اس عظیم دن میں ان کے ہونے والے انجام کا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان کا اس عظیم دن میں جو انجام ہورہا ہے وہ ان کے فسق وفجور اور ان کی تکذیب کے حسب حال ہے۔
آیت 14{ کَلَّا بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ } ”نہیں ! بلکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔“ اس ’ زنگ ‘ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے ‘ اس گناہ سے باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کے دل کا یہ داغ صاف ہوجاتا ہے ‘ لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ داغ بڑھتے جاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں۔“ مسند احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ گناہگار اہل ِایمان کے دلوں کے اندر ان کی روحوں کا ”نور“ تو موجود ہوتا ہے لیکن دلوں کے ”شیشے“ زنگ آلود ہوجانے کی وجہ سے یہ نور خارج میں اپنے اثرات نہیں دکھا سکتا۔ جیسے کسی فانوس یا لالٹین کا شیشہ اگر دھوئیں سے سیاہ ہوجائے تو اس کے اندر جلنے والے شعلے کی روشنی باہر نہیں آسکتی اور باہر کی روشنی اندر نہیں جاسکتی۔ انسانی دل کی اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور ﷺ نے اس کا علاج بھی تجویز فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر - روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ کَمَا یَصْدَأُ الْحَدِیْدُ اِذَا اَصَابَہُ الْمَائُ قِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا جِلَائُ ھَا ؟ قَالَ : کَثْرَۃُ ذِکْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ 1”ان دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہا پانی پڑنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے“۔ دریافت کیا گیا : یارسول اللہ ! اس زنگ کو دور کس چیز سے کیا جائے ؟ فرمایا : ”موت کی بکثرت یاد اور قرآن مجید کی تلاوت !“