سورۃ المطففین: آیت 15 - كلا إنهم عن ربهم يومئذ... - اردو

آیت 15 کی تفسیر, سورۃ المطففین

كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ

اردو ترجمہ

ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kalla innahum AAan rabbihim yawmaithin lamahjooboona

آیت 15 کی تفسیر

کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔

فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔

وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔

ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔

ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔

اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔

آیت 15{ کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ۔ } ”نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔“ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکار لوگوں کے لیے سورة القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے ہمارے عام مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ میدانِ حشر میں بھی مومنین صادقین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس وقت میدانِ حشر میں کفار و مشرکین بھی کھڑے ہوں گے لیکن انہیں اس نعمت سے محروم کردیا جائے گا۔ میدانِ حشر کے ایسے ہی ایک منظر کی جھلک سورة نٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۔ } ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی ‘ اور انہیں پکارا جائے گا اللہ کے حضور سجدے کے لیے ‘ لیکن وہ کر نہیں سکیں گے“۔ یعنی اہل ایمان جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے کرتے تھے وہ تو اس حکم کو سنتے ہی سجدے میں گرجائیں گے لیکن دوسرے لوگوں کی کمریں تختہ ہو کر رہ جائیں گی ‘ وہ تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کرسکیں گے۔

آیت 15 - سورۃ المطففین: (كلا إنهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون...) - اردو