وحرمنا علیہ المراضع ۔۔۔۔۔۔۔ وھم لہ نصحون (12)
” اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دودھ پلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔ (یہ حالت دیکھ کر) اس لڑکی نے ان سے کہا ” میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں “۔
قدرت الہیہ کے اس عجوبے پر غور کیجئے ، اسے پیدا کیا گیا ہے اور اس کو پالا گیا ہے اس لیے کہ فرعون اور اس کی قوم کے لیے باعث ہلاکت ہو ، لیکن تدبیر یوں ہے کہ وہ خود اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ، اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں ، اس کے لئے دودھ پلانے والی کی تلاش کرتے ہیں۔ دست قدرت اس پر تمام پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیتا ہے۔ دودھ پلانے والیاں دودھ پیش کرتی ہیں اور وہ پستان منہ میں نہیں لیتا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہوجاتا ہے کہ کہیں وہ مر ہی نہ جائے۔ اس کی بہن دور سے یہ منظر دیکھتی ہے۔ قدرت اس کے لئے بات کرنے کے مواقع پیدا کردیتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر پیشکش کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی عورت کا پتہ دے دوں جو اس کی اچھی طرح تربیت کرے اور وہ اس کے لیے خیر خواہ بھی ہو وہ خوشی خوشی اس پیشکش کو منظور کرلیتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر یہ بچہ اس عورت کا دودھ لے لے ، اور اس طرح موت سے بچ جائے تو بہت ہی اچھا ہو کیونکہ یہ بہت ہی پیارا بچہ ہے۔
اب یہاں یہ چوتھا منظر بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اب ہم اس کڑی کے پانچویں اور آخری منظر کے سامنے ہیں۔ یہ بچہ اب اپنی بےتاب ماں کی گود میں ہے۔ اس کو سکون مل گیا ہے۔ شاہی بچے کو دودھ پلانے کی وجہ سے ایک بلند مقام بھی مل گیا ہے۔ فرعون اور اس کی بیوی دونوں اس بچے کا خیال رکھتے ہیں ، خوف کے سائے اس کے اردگرد منڈلاتے ہیں لیکن وہ نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ ہیں دست قدرت کی صنعت کاریاں۔ قدرت کے اس عجوبے کی پہلی کڑی یہاں اختتام کو پہنچی ہے۔
آیت 12 وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ ”یہ سب کچھ اس بچی کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ یعنی یکے بعد دیگرے دودھ پلانے والی بہت سی خواتین کو بلایا گیا تھا مگر بچے نے کسی کی چھاتی کو منہ نہیں لگایا تھا۔ سورة طٰہٰ کی آیت 39 میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بچپنے کی من موہنی صورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ ج کہ میں نے تم پر اپنی محبت کا پرتو ڈال دیا تھا۔ چناچہ وہ سب لوگ آپ علیہ السلام کی صورت کے گرویدہ ہو رہے تھے مگر ساتھ ہی سخت تشویش میں مبتلا بھی تھے کہ آپ علیہ السلام کی خوراک کا کیا انتظام کیا جائے۔ کسی خاتون کا دودھ آپ علیہ السلام قبول ہی نہیں کر رہے تھے اور اس زمانے میں بچے کو دودھ پلانے کا کوئی دوسرا طریقہ تھا ہی نہیں۔