سورۃ القصص: آیت 13 - فرددناه إلى أمه كي تقر... - اردو

آیت 13 کی تفسیر, سورۃ القصص

فَرَدَدْنَٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اردو ترجمہ

اس طرح ہم موسیٰؑ کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faradadnahu ila ommihi kay taqarra AAaynuha wala tahzana walitaAAlama anna waAAda Allahi haqqun walakinna aktharahum la yaAAlamoona

آیت 13 کی تفسیر

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے ان مناظر کے بعد اب سیاق کلام کے اندر کئی سالوں کا وقفہ ہے۔ قصے کا اگلا حصہ آپ کے شباب کے زمانے سے متعلق ہے۔ جب حضرت موسیٰ کو دودھ پلانے کے لیے ان کی ماں کے حوالے کردیا گیا تو اس کے بعد کیا حالات پیش آئے ، اس کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔ قصر فرعون کے اندر آپ کے شب و روز کیسے رہے اور یہ کہ زمانہ رضاعت کے اختتام کے بعد اپنی ماں کے ساتھ اس کا رابطہ کیسے تھا۔ یہ کہ بلوغ اور شباب کے بعد قصر شاہی میں آپ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔ آپ کا عقیدہ کیا تھا۔ بہرحال وہ فرعون اور اس کے کاہنوں کے درمیان باری تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہو رہے تھے تاکہ وہ اپنا فریضہ ادا کریں۔ اس طویل وقفے کے بعد پھر یہ حالات پیش آئے۔ بہرحال شباب اور بلوغ تک پہنچنے کے ساتھ ہی آپ کی علمی اور روحانی تربیت مکمل ہوئی۔ اللہ نے آپ کو علم و حکمت عطا کیا اور یہ تھی جزا نیک لوگوں کی۔

وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ”اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم تمہارے بیٹے کو تمہارے پاس واپس لے آئیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ اس حوالے سے اسے اطمینان دلانا چاہتا تھا کہ اس نے وہ وعدہ سچ کر دکھایا ہے۔

آیت 13 - سورۃ القصص: (فرددناه إلى أمه كي تقر عينها ولا تحزن ولتعلم أن وعد الله حق ولكن أكثرهم لا يعلمون...) - اردو