افبھذا ................ صدقین (87) (6 5: 18 تا 78) ” پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ “
کیا تم اس کتاب کی باتوں میں شک کرتے ہو اور اس لئے کہ یہ تمہیں یہ کہتی ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ تم قرآن اور اس کے بیان کردہ قصص آخرت کی تکذیب کرتے ہو اور قرآنی عقائد و تصورات کی تکذیب کرتے ہو۔
آیت 81{ اَفَبِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْہِنُوْنَ۔ } ”تو کیا تم لوگ اس کتاب کے بارے میں مداہنت کر رہے ہو ؟“ اس آیت کا مفہوم ہمیں تب سمجھ آئے گا جب ہم میں سے ہر ایک خود کو اس کا مخاطب سمجھے کہ یہ آیت براہ راست اس سے پوچھ رہی ہے کہ اے اللہ کے بندے ! کیا تم اپنے دنیوی معاملات و مفادات کو اللہ کی اس نعمت کے مقابلے میں ترجیح دے رہے ہو ؟ کیا تم اس عظیم کتاب کو سیکھنے سکھانے اور سمجھنے میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کر رہے ہو ؟ ذرا سوچوتو ! تم نے کیسے کیسے مشکل علوم و فنون میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ ان علوم کو سیکھنے کے لیے تم نے کیسی کیسی محنت کی ہے اور کتنا وقت کھپایا ہے ! اس کے مقابلے میں قرآنی زبان سیکھنے کے لیے تم نے کتنی کوشش کی ہے ؟ تو کیا تم نے اپنی دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس قدر عظیم نعمت کو پس پشت ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے ؟