سورہ نازیہ: آیت 20 - فأراه الآية الكبرى... - اردو

آیت 20 کی تفسیر, سورہ نازیہ

فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ

اردو ترجمہ

پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faarahu alayata alkubra

آیت 20 کی تفسیر

فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔

اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔

آیت 20{ فَاَرٰٹہُ الْاٰیَۃَ الْکُبْرٰی۔ } ”تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کے بارے میں بھی بتایا ‘ اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی اس تک پہنچایا اور عصا کے اژدھا بن جانے والا معجزہ بھی اسے دکھا دیا۔

آیت 20 - سورہ نازیہ: (فأراه الآية الكبرى...) - اردو