ثم ادبر ........................ الاعلی (24:79) ” پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکار کر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ سیاق کلام میں یہاں اس سرکش کافر کی بات کو نہایت سرعت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مساعی کی تفصیلات ، جادوگروں کا جمع کیا جانا ، اور مقابلہ آرائی کی تفصیلات کو یہاں حذف کردیا جاتا ہے۔ پس اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اپنی سعی اور تدبیریں کرتا رہا اور عوام کو بھی جمع کیا اور جادوگروں کو بھی جمع کرلایا۔ اور پس یہاں یہاں اس کی ایک ہی مکروہ اور گندی بات کو نقل کردی ، جو جہالت اور غزور اور سرکش سے اٹی پڑی ہے کہ ” میں ہوں تمہارا رب اعلیٰ “ نعوذ باللہ۔
یہ بات اس سرکش نے اس بل بوتے پر کہی کہ اسے یقین تھا کہ عوام تو جاہل ہیں اور انہوں نے اس بات پر لبیک کہنا ہے جو وہ کہہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو عوام کی جہالت ، عوام کی ذلت اور عوام کی غیر مشروط اطاعت سخت دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ ہر سرکش اور ڈکٹیٹر تو دراصل ایک شخص ہوتا ہے۔ اس کے پاس نہ قوت ہوتی ہے اور نہ دلیل۔ بلکہ اس کی قوت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ ذلیل اور جاہل عوام اس کے سامنے بچھ جاتے ہیں وہ اپنے کاندھوں کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں اور وہ ان پر سوار ہوجاتا ہے اور ان کی گردنیں لمبی ہوتی جاتی ہیں اور وہ ان میں رسی ڈال کر مزید کھینچتا رہتا ہے۔ لوگ اس کے سامنے سرجھکاتے ہیں اور وہ مزید سر بلند کرتا ہے۔ لوگ اس کے مقابلے میں اپنے حقوق اور اپنی عزت سے دست بردار ہوتے ہیں اور وہ مزید سرکش ہوتا رہتا ہے۔
عوام الناس یہ کام کیوں کرتے ہیں ، ایک طرف سے وہ دھوکے میں ہوتے رہیں اور دوسری جانب سے وہ ڈرتے ہیں۔ رہا ان کا خوف تو وہ محض وہم یا گمان پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہر ڈکٹیٹر اور سرکش تو ایک فرد ہوتا ہے ، وہ ہزاروں اور لاکھوں عوام کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر اپنی انسانیت ، اپنی کرامت ، عزت نفس ، اپنی آزادیوں کا احساس ہو تو پھر ان ہزاروں اور لاکھوں عوام میں سے ایک شخص اس ڈکٹیٹر کے مقابلے کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن یہ ڈکٹیٹر اور سرکش ان کو دھوکہ دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ وہ اختیارات کا سرچشمہ ہے۔ حالانکہ کسی قوم میں سے ایک فرد اٹھ کر کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ اور ڈکٹیٹر اور سرکش ہوں۔ اگر قوم بیدار ہو اور اسے نیک وبد کا علم ہو تو اس میں سے کبھی بھی سرکش ڈکٹیٹر پیدا نہیں ہوسکتا ، پھر جو امت اپنے حقیقی رب اعلیٰ سے واقف ہو تو اس کے اندر کوئی اس قسم کا فرعونی ڈکٹیٹر سر نہیں اٹھا سکتا۔ نیز اگر کوئی قوم یہ فیصلہ کرلے کہ اس نے صرف رب واحد کی بندگی کرنی ہے اور اس رب کے سوا کوئی نہیں ہے کہ اسے نفع دے سکے یا نقصان۔ تو ایسی قوم میں کوئی مطلق العنان سر نہیں اٹھاسکتا۔
فرعون کو معلوم تھا کہ اس کی قوم غافل اور ذلیل ہے۔ اور اس کی رعیت کے لوگوں کے دل ذوق ایمان سے خالی ہیں۔ اس لئے اسے اس قدر جرات ہوگئی کہ وہ کہے۔
آیت 22{ ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰی۔ } ”پھر وہ پلٹا بھاگ دوڑ کرنے کے لیے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے ملک بھر سے ماہر جادوگروں کو اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔