سورہ نازیہ: آیت 25 - فأخذه الله نكال الآخرة والأولى... - اردو

آیت 25 کی تفسیر, سورہ نازیہ

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ

اردو ترجمہ

آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faakhathahu Allahu nakala alakhirati waaloola

آیت 25 کی تفسیر

اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔

فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی اعتبار سے الاخرة والاولی (25:79) ہم آہنگ ہوگئے۔

اس دنیا میں فرعون جس عذاب سے دو چار ہوا ، وہ بھی بڑا سخت تھا۔ رہا آرت کا عذاب تو وہ بہت ہی شدید اور سخت ہوگا۔ فرعون بڑی قوت والا تھا ، اور خاندانی عزت اور وقار کا مالک تھا۔ اسے اگر اس قدر شدید عذاب سے دوچار کیا گیا تو دوسرے کم درجے کے مکذبین ڈکٹیٹر اور سرکش بہرحال شدید ترین عذاب سے دو چار ہوں گے اور رہے مشرکین مکہ تو عالمی قوتوں میں تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔

ان فی ........................ یخشیٰ (26:79) ” در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے ، وہی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ فرعون کے واقعہ میں لوگوں کے لئے کیا کیا عبرتیں ہیں۔ رہا وہ شخص جس کے دل میں تقویٰ ، خوف اور خشیت ہی نہیں ہے۔ اس کے اور عبرت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔ اس کے اور نصیحت حاصل کرنے کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ آخر کار وہ انجام بد سے دوچار ہی نہیں ہوتا بلکہ انجام بد سے جاکر ٹکراتا ہے اور اللہ اس سے دنیا وآخرت میں انتقام لے لیتا ہے۔ پس ہر شخص کو اللہ ہی عبرت ، راہ راست اور اچھے انجام کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔

ڈکٹیٹروں اور مادی وسیاسی قوت کے بل بوتے پر ظلم اور سرکشی کرنے والوں کے اس مطالعے اور نظارے کے بعد اب ذرا مشرکین مکہ کی طرف ، جن کو اپنی چھوٹی سی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا ، ان کے سامنے بعض عظیم کائناتی قوتیں پیش کی جاتی ہیں ، تاکہ وہ ذرا سمجھیں کہ ان ہولناکی کی کائناتی قوتوں کے سامنے ان کی قوت ہیچ ہے۔

آیت 25{ فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی۔ } ”تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی سزا میں۔“ دنیا کی سزا کے طور پر تو اسے اپنے لائو لشکر سمیت غرق کردیا گیا۔ جہاں تک اس کی آخرت کی سزا کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں جابجا ہوا ہے کہ وہ بہت بھیانک ہوگی۔

آیت 25 - سورہ نازیہ: (فأخذه الله نكال الآخرة والأولى...) - اردو